سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1952
Sunan Ibn Majah 1952
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ
باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا ، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں ، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے چار کا انتخاب کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1952]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ کفر کا نکاح معتبر ہو گا اگر میاں بیوی دونوں اسلام قبول کر لیں تو ان کا سابقہ نکاح برقرار رہے گا، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدائی کے وقت ترتیب نکاح غیر موثر ہے، مرد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پہلی بیوی کو روک رکھے بلکہ اسے اختیار ہے جسے چاہے روک لے اور جسے چاہے جدا کر دے، یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں حنفیہ کے خلاف حجت ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2241،2242) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 25 (2241، 2242)، (تحفة الأشراف: 11089) (حسن صحیح)