سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1950
Sunan Ibn Majah 1950
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
39: بَابُ : الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أُخْتَانِ
باب: آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو سگی بہنیں ہوں تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي أُخْتَانِ تَزَوَّجْتُهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَال: " إِذَا رَجَعْتَ، فَطَلِّقْ إِحْدَاهُمَا".
دیلمی ( فیروز دیلمی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1950]
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 25 (2243)، سنن الترمذی/النکاح 33 (1129)، (تحفة الأشراف: 11061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/232) (حسن) (اسحاق بن عبد اللہ ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)