سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1935
Sunan Ibn Majah 1935
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
33: بَابُ : الْمُحَلِّلِ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ
باب: حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَمُجالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1935]
💡 وضاحت:
۱؎: «محلل» (حلالہ کرنے والا) وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے اور «محلل لہ» (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2076) ترمذي (1119) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 15 (2076، 2077)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1119)، (تحفة الأشراف: 10034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 87، 107، 121، 150، 158) (صحیح)