سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1995
Sunan Ibn Majah 1995
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
55: بَابُ : مَا يَكُونُ فِيهِ الْيُمْنُ وَالشُّؤْمُ
باب: جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ جَدَّتَهُ زَيْنَبَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ، وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْف.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست تین چیزوں میں ہے : گھوڑے ، عورت اور گھر میں “ ۱؎ ۔ زہری کہتے ہیں : مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا ، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1995]
💡 وضاحت:
۱؎: «الشوم فى ثلاث» (نحوست کے تین چیزوں میں متحقق ہونے) سے متعلق احادیث کے مقابلہ میں «إن كان الشؤم» (اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی) کا لفظ کثرت روایت اور معنی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اس لئے کہ اسلام میں کوئی چیز «شؤم ونحوست» کی نہیں، اس لئے البانی صاحب نے «الشؤم فى ثلاثة» والی احادیث کو شاذ قرار دیا ہے، اور شرط کے ساتھ وارد متعدد احادیث کو روایت اور معنی کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے: (ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۴/۴۵۰-۴۵۱)
قال الشيخ الألباني:
شاذ ق وفي لفظ لهما إن كان الشؤم ففي فذكر الثلاث دون السيف وهو المحفوظ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
حدیث عبد اللہ بن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطب 34 (2225)، (تحفة الأشراف: 6864)، وحدیث أم سلمةٰ، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18276)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 47 (2858)، النکاح 17 (5093)، الطب 43 (5753)، سنن ابی داود/الطب 24 (3922)، سنن النسائی/الخیل 5 (3599)، سنن الترمذی/الادب 58 (2824)، موطا امام مالک/الإستئذان 8 (22)، مسند احمد (2/8، 36، 115، 126) (صحیح)