سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1898
Sunan Ibn Majah 1898
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
21: بَابُ : الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ
باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے ، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے ، اور یہ عید الفطر کا دن تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر ! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، اور یہ ہماری عید ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1898]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العیدین 2 (949)، 3 (952)، 25 (987)، الجہاد 81 (2907)، المناقب 15 (3520)، مناقب الأنصار 46 (3931)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، (تحفة الأشراف: 16801)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 32 (1594)، 36 (1598)، مسند احمد (6/33، 84، 99، 127) (صحیح)