سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1897
Sunan Ibn Majah 1897
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
21: بَابُ : الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ
باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ".
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے ، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں ، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے ، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں ، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں ، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی : «وفينا نبي يعلم ما في غد» ” ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا مت کہو ، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1897]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 12 (4001)، النکاح 48 (5147)، سنن ابی داود/الأدب 51 (4922)، سنن الترمذی/النکاح 6 (1090)، (تحفة الأشراف: 15832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (صحیح)