سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1926
Sunan Ibn Majah 1926
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
30: بَابُ : الْعَزْلِ
باب: عزل کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ؟، فَقَالَ: " أَوَ تَفْعَلُونَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا، أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے ، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی “ ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1926]
💡 وضاحت:
۱؎: عزل: شرمگاہ سے باہر منی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4141)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 109 (2229)، العتق 13 (2542)، المغازي 32 (4138)، النکاح 96 (5210)، القدر 6 (6603)، التوحید 18 (7409)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2170)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1138)، سنن النسائی/النکاح 55 (3329)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (2/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 68، 72، 78، 88، 93)، سنن الدارمی/النکاح 36 (226) (صحیح) 192