سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1914
Sunan Ibn Majah 1914
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
25: بَابُ : إِجَابَةِ الدَّاعِي
باب: (ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ، فَلْيُجِبْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1914]
💡 وضاحت:
۱؎: بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہو گا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہو گی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بے پردگی اور بے حیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 16 (1429)، النکاح 23 (2251)، (تحفة الأشراف: 7949)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 71 (5173)، سنن ابی داود/الأطعمة 1 (3736)، موطا امام مالک/النکاح 21 (49)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 40 (2127) (صحیح)