سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1962
Sunan Ibn Majah 1962
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
44: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ
باب: نکاح متعہ منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا، قَالَ: فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ فَأَتَيْنَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا، إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا"، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا فَمَكَثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ أَلَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخْلِ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان عورتوں سے متعہ کر لو “ ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں ، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو “ چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے ، اس کے پاس ایک چادر تھی ، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی ، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی ، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا ، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا : چادر تو چادر کی ہی طرح ہے ( پھر وہ میری طرف مائل ہو گئی ) چنانچہ میں نے اس سے نکاح ( متعہ ) کر لیا ، اور اس رات اسی کے پاس رہا ، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ( حجر اسود ) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو ! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے ، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے ، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1962]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله حجة الوداع والصواب يوم الفتح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 3 (1406)، سنن ابی داود/النکاح 14 (2072)، سنن النسائی/النکاح 71 (3370)، (تحفة الأشراف: 3809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404، 405)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2242) (صحیح) (حجة الوداع کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح یوم الفتح ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے)