سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1869
Sunan Ibn Majah 1869
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
10: بَابُ : لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ
باب: مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، فَآذَنَتْهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْجَهْمِ بْنُ صُخَيْرٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ"، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ، أُسَامَةُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَاعَةُ اللَّهِ، وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ"، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ بِهِ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا “ ، آخر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی ، تو انہیں معاویہ ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں ، لیکن اسامہ بہتر ہیں “ یہ سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ سے اشارہ کیا : اور کہا : اسامہ اسامہ ( یعنی اپنی بے رغبتی ظاہر کی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے “ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آخر میں نے اسامہ سے شادی کر لی ، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1869]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جسے پیغام دیا گیا اگر اس کی طرف سے ابھی موافقت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو دوسرے کے لیے پیغام دینا جائز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا جائز ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 37 (1135) سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18037)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 39 (2884)، موطا امام مالک/الطلاق 23 (67)، مسند احمد (6/414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2223) (صحیح)