سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1989
Sunan Ibn Majah 1989
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
52: بَابُ : الْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ
باب: بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللَّهِ"، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ قُلْتَ: كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِهِ فَقَدْ وَجَدْتِهِ أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں ، بال اکھیڑنے والیوں ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں ، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے ، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے ، وہ کہنے لگی : میں پورا قرآن پڑھتی ہوں ، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی : «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ “ اس عورت نے کہا : ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، وہ عورت بولی : میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہو گی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : جاؤ دیکھو ، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی ، تب کہنے لگی : میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1989]
💡 وضاحت:
۱؎: تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی کا مطلب ہے کہ میں اسے طلاق دے دیتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورةالحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الادب 33 (2782)، سنن النسائی/الزینة 24 (5102)، (تحفة الأشراف: 9450)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/409، 415، 424، 448، 454، 462، 465)، سنن الدارمی/الاستذان 19 (2689) (صحیح)