📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (كتاب النكاح) 🏷️ باب: باب: دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1991 Sunan Ibn Majah 1991
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
53: بَابُ : مَتَى يُسْتَحَبُّ الْبِنَاءُ بِالنِّسَاءِ
باب: دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا إِلَيْهِ فِي شَوَّالٍ".
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1991]
💡 وضاحت:
۱؎: شوال کا مہینہ عید اور خوشی کا مہینہ ہے، اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، عہد جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیال کو غلط ٹھہرایا اور اس مہینہ میں نکاح کیا، اور دخول بھی اسی مہینے میں کیا، گو ہر ماہ میں نکاح جائز ہے مگر جس مہینہ کو عوام بغیر دلیل شرعی کے عورتوں کی تقلید سے یا کافروں اور فاسقوں کی تقلید سے منحوس سمجھیں اس میں نکاح کرنا چاہئے، تاکہ عوام کے دل سے یہ غلط عقیدہ نکل جائے، شرع کی رو سے شوال، محرم یا صفر کا مہینہ کوئی منحوس نہیں ہے، اس لیے بے کھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: مرسل
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ عبدالملك ھو ابن أبي بكر بن عبد الرحمٰن بن الحارث المخزومي،وأبوه ثقة تابعي فالحديث مرسل وانظرالضعيفة (9/ 336-347 ح 4350) وأما ابن إسحاق فصرح بالسماع عند ابن سعد (8/ 95) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3282، 18230، ومصباح الزجاجة: 706) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سند میں ارسال ہے، عبدالملک بن الحارث بن ہشام یہ عبدالملک بن ابی بکر بن الحارث بن ہشام المخزومی ہیں جیسا کہ طبقات ابن سعد میں ہے، 8/94-95، اور یہ ثقہ تابعی ہیں، اسی طرح ابوبکر ثقہ تابعی ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر کی ہے، نہ کہ ان کے دادا حارث بن ہشام کی، اور عبداللہ بن ابی بکر یہ ابن محمد عمرو بن حزم الانصاری ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے ابن اسحاق روایت کرتے ہیں، ابوبکر کی وفات 120 ھ میں ہوئی، اور ان کے شیخ عبدالملک کی وفات 125 ھ میں ہوئی، اس لیے یہ حدیث ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے مرسلاً روایت ہے، ان کے دادا حارث بن ہشام سے نہیں، اس میں امام مزی وغیرہ کو وہم ہوا ہے، نیز سند میں ابن اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ابن سعد کی روایت میں تحدیث کی تصریح ہے، اور موطا امام مالک میں (2/ 650) میں ثابت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اس حدیث کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے لیا ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح ہے، اسی وجہ سے شیخ البانی نے تفصیلی تحقیق کے بعد اس حدیث کو الضعیفہ (4350) سے منتقل کرنے کی بات کہی ہے،، فالحدیث صحیح ینقل الی الکتاب الأخر“۔ 199
سنن ابن ماجه • حدیث #1991
1989 1990 1991 1992 1993

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1990 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ . ح وحَدَّثَنَا أَ...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ