سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1990
Sunan Ibn Majah 1990
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
53: بَابُ : مَتَى يُسْتَحَبُّ الْبِنَاءُ بِالنِّسَاءِ
باب: دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا ، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں ( ان کے شوہروں کے پاس ) بھیجنا پسند کرتی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1990]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 11 (1423)، سنن الترمذی/النکاح 9 (1093)، سنن النسائی/النکاح 18 (3238)، 77 (3379)، (تحفة الأشراف: 16355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/54، 206)، سنن الدارمی/النکاح 28 (2257) (صحیح)