سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2000
Sunan Ibn Majah 2000
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
57: بَابُ : الَّتِي وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ، تَقُولُ: " أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51، قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ فِي هَوَاكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے ؟ ! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے ” اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے “ ( سورة الأحزاب : 51 ) تب میں نے کہا : آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2000]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ عورتیں شرم کریں، اور اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ نہ کریں اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بہت ہو جائیں گی تو باری ہر ایک کی دیر میں آئے گی، اب اختلاف ہے کہ جس عورت نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہبہ کر دیا تھا، اس کا نام کیا تھا، بعض کہتے ہیں میمونہ، بعض ام شریک، بعض زینب بنت خزیمہ، بعض خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہن «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب (4788)، النکاح 29 (5113) تعلیقاً، صحیح مسلم/الرضاع 14 (1464)، (تحفة الأشراف: 17049)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 69 (3361)، مسند احمد (6/158) (صحیح)