سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1906
Sunan Ibn Majah 1906
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
23: بَابُ : تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ
باب: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ".
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی ، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا : «بالرفاء والبنين» ” میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں “ تو آپ نے کہا : اس طرح مت کہو ، بلکہ وہ کہو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» ” اے اللہ ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1906]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (3373) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 73 (3373)، مسند احمد (1/201، 3/ 451) (صحیح)