سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1866
Sunan Ibn Majah 1866
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
9: بَابُ : النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا"، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے دیکھ لو ، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے “ ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا ، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا ، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی ، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے ، تو تم دیکھ لو ، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں ، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا ، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کو دیکھا ، اور اس سے شادی کر لی ، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1866]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن النسائی/النکاح 17 (3237)، (تحفة الأشراف: 11489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)