سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1862
Sunan Ibn Majah 1862
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
8: بَابُ : تَزْوِيجِ الْحَرَائِرِ وَالْوَلُودِ
باب: آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہئیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1862]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ آزاد عورتیں بہ نسبت لونڈیوں کے زیادہ لطیف اور پاکیزہ ہوتی ہیں، اور ممکن ہے کہ مطلب یہ ہو جو کوئی آزاد عورتوں سے نکاح کرے گا، اس کی نگاہ اجنبی عورتوں کے طرف نہ اٹھے گی، پس وہ اکثر گناہوں سے بچا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ سلام بن سوار: ضعيف (تقريب: 2704) وشيخه كثير بن سليم: ضعيف (تقريب: 5613) ¤ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (261/2) ¤ وللحديث شاهد عند البخاري في التاريخ (404/8) بدون سند واﷲ أعلم بحاله ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 921، ومصباح الزجاجة: 662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/225، 493) (ضعیف) (سند میں کثیر بن سلیم اور سلام بن سوار ضعیف ہیں)