سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1860
Sunan Ibn Majah 1860
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
7: بَابُ : تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَبِكْرًا، أَوْ ثَيِّبًا؟"، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا"، قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: " فَذَاكَ إِذًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ، تو آپ نے فرمایا : ” جابر ! کیا تم نے شادی کر لی “ ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کنواری سے یا غیر کنواری سے “ ؟ میں نے کہا : غیر کنواری سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے “ ؟ میں نے کہا : میری کچھ بہنیں ہیں ، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1860]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن النسائی/النکاح 6 (3221)، 10 (3236)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الوکالة 8 (2409)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح 10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، مسند احمد (3/294، 302، 308، 314، 362، 369، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)