سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1976
Sunan Ibn Majah 1976
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
49: بَابُ : الشَّفَاعَةِ فِي التَّزْوِيجِ
باب: نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے ، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ان سے خون صاف کرو “ ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1976]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ شريك عنعن ¤ وتابعه مجالد وھو ضعيف ¤ وفي سماع البهي من عائشة رضي اﷲ عنها كلام وللحديث شاهد مرسل عند ابن سعد (62/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16296، ومصباح الزجاجة: 700)، وقد أخرجہ: 6/139، 222) (صحیح)