سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1977
Sunan Ibn Majah 1977
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
50: بَابُ : حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو ، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1977]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ اگرچہ تمام لوگوں سے معاشرت عمدہ طور سے لازم ہے، تاکہ سب خاص و عام اپنے سے خوش رہیں، اور مرتے وقت تعریف کریں، اور دعا دیں لیکن سب لوگوں سے زیادہ حق اپنی بیوی اور بال بچوں کا ہے، اس کے بعد دوسرے عزیزوں اور ناتے والوں کا، اس کے بعد دوستوں کا اس کے بعد اور لوگوں کا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5937، ومصباح الزجاجة: 701) (صحیح) (سند میں عمارہ بن ثوبان مستور ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے)