سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1980
Sunan Ibn Majah 1980
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
50: بَابُ : حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: " كَيْفَ رَأَيْتِ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خیبر سے واپس ) مدینہ آئے ، اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آپ دولہا ہوئے ، تو انصار کی عورتیں آئیں ، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی ، منہ پر نقاب ڈالا ، اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے چلی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی ، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا ، اور پوچھا : ” تو نے کیسا دیکھا “ ؟ میں نے کہا : بس چھوڑ دیجئیے ، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1980]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ فيه علل منها ضعف علي بن زيد بن جدعان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17822، ومصباح الزجاجة: 703) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے)