سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1877
Sunan Ibn Majah 1877
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
13: بَابُ : نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ الآبَاءُ
باب: باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی ، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1877]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ رضی اللہ عنہا کا یہ حال تھا کہ علم و فضل،قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9620، ومصباح الزجاجة: 669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/130) (صحیح) (سند میں ابو عبیدہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 6 /230)