سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1879
Sunan Ibn Majah 1879
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
15: بَابُ : لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ
باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو ، تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے ، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے ، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1879]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 20 (2083، 20848)، سنن الترمذی/النکاح 14 (1102)، (تحفة الأشراف: 16462)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/66، 166، 260)، سنن الدارمی/النکاح 11 (2230) (صحیح)