سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1880
Sunan Ibn Majah 1880
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
15: بَابُ : لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ
باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وعَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ"، وَفِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: " وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے “ ۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے : ” جس کا کوئی ولی نہ ہو ، اس کا ولی حاکم ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1880]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16462، ومصباح الزجاجة: 671)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 20 (2083)، سنن الترمذی/النکاح 14 (1102)، مسند احمد (6/66، 166، 260، سنن الدارمی/النکاح 11 (2230) (صحیح) (حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حجاج کا عکرمہ سے سماع نہیں بھی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 6/ 238- 247)