📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (كتاب النكاح) 🏷️ باب: باب: ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1932 Sunan Ibn Majah 1932
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
32: بَابُ : الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ
باب: ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی ، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی ، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی ، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور فرمایا : ” کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ؟ نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو ، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1932]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔
۲؎: «حتى تذوقي عسيلته» سے کنایہ جماع کی طرف ہے، اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے تو وہ عورت دوسرے مرد سے نکاح کرے،اور شوہر اس سے جماع کر لے، اگر اس کے بعد یہ دوسرا اس کو طلاق دے دیتا ہے تو یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نیا نکاح کر سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ دوسرے شوہر کا یہ نکاح حلالہ کی نیت سے نہ ہو اور نہ حلالہ کی شرط لگائی جائے کہ اس حیلہ سے عورت اپنے شوہر کے پاس پہنچ جائے، آگے آ رہا ہے کہ حلالہ کا نکاح حرام اور ناجائز ہے، اور ایسا کرنے والا اور جس کے لیے کیا جائے دونوں ملعون ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 3 (2639)، الطلاق 4 (5260)، الطلاق 37 (5317)، اللباس 6 (5792)، الأدب 68 (6084)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1118)، سنن النسائی/النکاح 43 (3285)، الطلاق 9 (3437)، 10 (3438)، 12 (3440)، (تحفة الأشراف: 16436)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/34، 37، 192، 226، 229)، سنن الدارمی/الطلاق 4 (2313) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1932
1930 1931 1932 1933 1934

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1933 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ