سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2007
Sunan Ibn Majah 2007
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
59: بَابُ : الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
باب: بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بچہ صاحب فراش کا ہے ، اور زانی کے لیے پتھر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2007]
💡 وضاحت:
۱؎: «وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4885، ومصباح الزجاجة: 713) (صحیح) (سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے)