سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1970
Sunan Ibn Majah 1970
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
47: بَابُ : الْقِسْمَةِ بَيْنَ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1970]
💡 وضاحت:
۱؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: «تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء» (سورة الأحزاب: 51) ”ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، مسند احمد (6/117، 151، 197، 269)، سنن الدارمی/الجہاد 31 (2467) (صحیح)