سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1889
Sunan Ibn Majah 1889
کتاب #10: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
17: بَابُ : صَدَاقِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے مہر کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَتَزَوَّجُهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا : ” اس سے کون نکاح کرے گا “ ؟ ایک شخص نے کہا : میں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو “ ، وہ بولا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1889]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، فضائل القرآن 21 (5029)، 22 (530)، النکاح 14 (5087)، 32 (5121)، 35 (5126)، 37 (5132)، 40 (5135)، 44 (5141)، 50 (5149)، 51 (5150)، اللباس 49 (7117)، (تحفة الأشراف: 4684)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 1 (3202)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/النکاح 19 (2247) (صحیح)