📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه

ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا

کتاب #4 • کل احادیث: 138
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
126: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لاَ يُوجِبُهُ - غُسْلُ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ
باب: کافر جب اسلام لائے تو اس کے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 188]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غسل کفر کی گندگی کے ازالہ اور نجاست کے احتمال کے دفعیہ کے لیے ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور بعض کے نزدیک وجوبی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 131 (355)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (605)، (تحفة الأشراف: 11100)، مسند احمد 5/61 (صحیح)
127: بَابُ : تَقْدِيمِ غُسْلِ الْكَافِرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ
باب: کافر جب اسلام لانے کا ارادہ کرے تو پہلے غسل کرے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ انْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟" فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ مُخْتَصِرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی ۱؎ مسجد نبوی کے قریب پانی کے پاس آئے ، اور غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، اے محمد ! اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اور اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو گیا ہے ، اور آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے ، اور حال یہ ہے کہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو اب آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی ، اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں ، ( یہ حدیث یہاں مختصراً مذکور ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 189]
💡 وضاحت:
۱؎: یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک فرد تھے، اپنی قوم کے سردار بھی تھے، عمرہ کی ادائیگی کے لیے نکلے تھے، راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گشتی سواروں نے گرفتار کر لیا، اور انہیں مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے آئے، اور انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا، تین دن کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا جس سے متاثر ہو کر وہ اسلام لے لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 76 (462) مختصرًا، الخصومات 7 (2422) مختصرًا، المغازي 70 (4372) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد 19 (1764)، سنن ابی داود/الجھاد 124 (2679)، (تحفة الأشراف: 13007)، مسند احمد 2/452، 483، وسیأتی بعضہ برقم: 713 (صحیح)
128: بَابُ : الْغُسْلِ مِنْ مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ
باب: مشرک کو دفنانے کے بعد غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِهِ"، قَالَ: إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِهِ، فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: اغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : ابوطالب مر گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ انہیں گاڑ دو “ تو انہوں نے کہا : وہ شرک کی حالت میں مرے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ انہیں گاڑ دو “ ، چنانچہ جب میں انہیں گاڑ کر آپ کے پاس واپس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” غسل کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 190]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز70 (3214)، (تحفة الأشراف: 10287)، مسند احمد 1/97، 131، ویأتي عند المؤلف برقم: 2008 (صحیح)
129: بَابُ : وُجُوبِ الْغُسْلِ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ
باب: مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مرد ، اس ( عورت ) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 191]
💡 وضاحت:
۱؎: شاخوں کے درمیان بیٹھے اس سے مراد عورت کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں یا دونوں پیر اور دونوں ران ہیں، اور ایک قول ہے کہ اس کی شرمگاہ کے چاروں اطراف مراد ہیں۔ پھر کوشش کرے کوشش کرنے سے کنایہ دخول کی جانب ہے، یعنی عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں داخل کر دے۔ غسل واجب ہو جاتا ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غسل کے وجوب کا دارومدار دخول پر ہے اس کے لیے انزال شرط نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 28 (291)، صحیح مسلم/الحیض 22 (348)، سنن ابی داود/الطہارة 84 (216)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 111 (610)، (تحفة الأشراف: 14659)، مسند احمد 2/234، 347، 393، 471، 520، سنن الدارمی/الطہارة 75 (788) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ، عَنْ شُعْبَةَ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَغَيْرُهُ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے ، پھر کوشش کرے ، تو غسل واجب ہو گیا “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے ، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے ، یعنی : بطریق «قتادة عن الحسن ، عن أبي رافع ، عن أبي هريرة» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 192]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 14405) (صحیح)
130: بَابُ : الْغُسْلِ مِنَ الْمَنِيِّ
باب: منی نکلنے پر غسل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو ، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو ، اور جب پانی ( منی ) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 193]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 83 (206) مطولاً، (تحفة الأشراف: 10079)، مسند احمد 1/ 109، 125، 145 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی ، تو میں نے ۱؎ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مذی دیکھو تو وضو کر لو ، اور اپنا ذکر دھو لو ، اور جب پانی ( منی ) کو کودتے دیکھو ، تو غسل کرو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 194]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مقداد یا عمار کے واسطہ سے پوچھا، جیسا کہ حدیث نمبر: ۱۵۲، ۱۵۷ میں گزر چکا ہے۔ ۲؎: منی کا ذکر افادئہ مزید کے لیے ہے ورنہ جواب مذی کے ذکر ہی پر پورا ہو چکا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 10079) (صحیح)
131: بَابُ : غُسْلِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ
باب: احتلام ہونے پر عورت کے غسل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، قَالَ: " إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ انزال کرے تو غسل کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 195]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 7 (311) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 107 (601) مطولاً، (تحفة الأشراف: 1181)، مسند احمد 3/121، 199، 282، سنن الدارمی/الطھارة 75 (791) بأطول من ھذا، ویأتی عندالمؤلف برقم: 200 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَرَى فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَفَتَغْتَسِلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: أُفٍّ لَكِ، أَوَ تَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكَ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( بھی وہاں ) بیٹھی ہوئی تھیں ، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ، آپ مجھے اس عورت کے متعلق بتائیے جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے ، کیا وہ اس کی وجہ سے غسل کرے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہاں ! “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے ان سے ( ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ) کہا : افسوس ہے تم پر ! کیا عورت بھی اس طرح خواب دیکھتی ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، پھر بچہ کیسے ( ماں کے ) مشابہ ہو جاتا ہے ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 196]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ لڑکا مرد اور عورت کے پانی ہی سے پیدا ہوتا ہے، جس کا پانی غالب ہو جاتا ہے لڑکا اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، وقد آخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 7 (313) تعلیقاً، سنن ابی داود/الطھارة 96 (237)، (تحفة الأشراف: 16627)، مسند احمد6/92 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ( اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں ) ، عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب منی دیکھ لے “ ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( یہ سن کر ) ہنس پڑیں ، اور کہنے لگیں : کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ ( ہم شکل ) ہوتا ہے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 197]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم50 (130)، الغسل 22 (282)، الأنبیاء 1 (3328)، الأدب 67 (6091)، وباب 79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن الترمذی/الطھارة 90 (122)، سنن ابن ماجہ/فیہ 107 (600)، (تحفة الأشراف: 18264)، موطا امام مالک/فیہ 21 (84)، مسند احمد 6/ 292، 302، 306 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، قالت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ فِي مَنَامِهَا، فَقَالَ: " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ".
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے خواب میں احتلام ہو جائے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 198]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 107 (602) مطولاً، (تحفة الأشراف: 15827)، مسند احمد 6/409، سنن الدارمی/الطھارة 76/789 (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”عطاء خراسانی‘‘ ضعیف ہیں)
132: بَابُ : الَّذِي يَحْتَلِمُ وَلاَ يَرَى الْمَاءَ
باب: اس شخص کا بیان جو خواب دیکھے اور منی نہ دیکھے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سُعَادٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پانی سے ہے “ ۱؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 199]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلے پانی سے مراد ماء مطہر ہے اور دوسرے پانی سے مراد منی ہے، یہ حدیث عرفاً حصر کا فائدہ دے رہی ہے یعنی مجرد دخول سے جب تک کہ انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا، لیکن یہ حدیث ابی بن کعب کے قول «كان الماء من الماء في أوّل الإسلام ثم ترك بعده وأمر بالغسل إذا مس الختان بالختان» سے منسوخ ہے، یا یہ حکم جماع سے متعلق نہیں صرف احتلام سے متعلق ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمہ الباب میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 110 (607)، (تحفة الأشراف: 3469)، مسند احمد 5/ 416، 421، سنن الدارمی/الطہارة 74 (785) (صحیح)
133: بَابُ : الْفَصْلِ بَيْنَ مَاءِ الرَّجُلِ وَمَاءِ الْمَرْأَةِ
باب: مرد اور عورت کی منی میں فرق کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے ، اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے ، تو دونوں میں جس کی منی سبقت کر جائے ۱؎ بچہ اسی کی ہم شکل ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 200]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی منی رحم میں پہلے پہنچ جائے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «سَبَقَ» ، «غَلَبَ» کے معنی میں ہے یعنی جس کی منی غالب آ جائے اور مقدار میں طاقتور ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم 195، (تحفة الأشراف: 1181) (صحیح)
134: بَابُ : ذِكْرِ الاِغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض سے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ، قَالَ لَهَا: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلَّى".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کے قبیلہ بنو اسد کی خاتون ہیں کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور عرض کیا کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو ، اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو لو پھر ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 201]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 108 (280، 281) و 110 (286)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (620)، (تحفة الأشراف: 18019)، مسند احمد 6/420، 463، وأعادہ المؤلف بأرقام: 212، 350، 358، 362، 3583 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 202]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة 116 (626) مطولاً، 28 (331)، (تحفة الأشراف: 16516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض، ویأتي عند المؤلف برقم: 203، 204، 351 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ حیض نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 203]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 26 (327)، صحیح مسلم/فیہ 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 110 (285)، 111 (288)، سنن ابن ماجہ/116 (626)، (تحفة الأشراف: 16516، 17922)، مسند احمد 6/83، 141، 187، سنن الدارمی/الطھارة 80 (795)، ویأتي عند المؤلف برقم: 204، 205، 211، 357 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال: أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَأَبُو مُعَيْدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَإِذَا أَدْبَرَتِ الْحَيْضَةُ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، وَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاتْرُكِي لَهَا الصَّلَاةَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ أَحْيَانًا فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ وَهِيَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ، وَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا - بنت جحش جو ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں - کو استحاضہ کا خون آیا ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، تو جب حیض بند ہو جائے تو غسل کرو ، اور نماز پڑھو ، اور جب وہ آ جائے تو اس کی وجہ سے نماز ترک کر دو “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں ۱؎ اور نماز پڑھتی تھیں ، اور کبھی کبھی اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ایک ٹب میں غسل کرتیں ، اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتیں ، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ، پھر وہ نکلتیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں ، اور یہ ( خون ) انہیں نماز سے نہیں روکتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 204]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے لیے ان کا یہ غسل ازراہ احتیاط تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، اور جو یہ آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا تو اسے استحباب پر محمول کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وتخرج فتصلي ...
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ولکن لا یوجد عند مسلم قولہ: ”وتخرج فتصلی۔۔۔‘‘ (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ کو ، جو عبدالرحمٰن بن عوف کے عقد میں تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا ، اس سلسلے میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ حیض کا خون نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 205]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 203، (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے ( اس حالت میں کیا کروں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو ، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 206]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 111 (290)، سنن الترمذی/فیہ 96 (129)، (تحفة الأشراف: 16583)، ویأتي عند المؤلف برقم: 352 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ کے ) خون کے متعلق پوچھا ؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا دیکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تمہارے حیض کا خون جتنے دن تمہیں ( پہلے صوم صلاۃ سے ) روکے رکھتا تھا ، اسی قدر رکی رہو ، پھر غسل کرو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 207]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 108 (279)، (تحفة الأشراف: 16370)، مسند احمد 6/222، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 353 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى وَلَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرًا.
امام نسائی کہتے ہیں : ہم سے قتیبہ نے دوسری مرتبہ بیان کیا ، اور ( اس بار ) انہوں نے جعفر کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 208]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16370) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَعْنِي أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ، ثُمَّ لِتُصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو کثرت سے خون آتا تھا ، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ مہینہ کے ان دنوں اور راتوں کو شمار کر لے جس میں اس بیماری سے جو اسے لاحق ہوئی ہے پہلے حیض آیا کرتا تھا ، پھر ہر مہینہ اسی کے برابر نماز چھوڑ دے ، اور جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے ، پھر لنگوٹ باندھے ، پھر نماز پڑھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 209]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (274) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 108 (274، 275، 276، 277، 278)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (623)، (تحفة الأشراف: 18158)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (105)، مسند احمد 6/293، 320، 322، سنن الدارمی/الطہارة 84 (807)، ویاتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 354، 355 (صحیح)
135: بَابُ : ذِكْرِ الأَقْرَاءِ
باب: قرء کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرْ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں استحاضہ ہو گیا ( جس سے ) وہ پاک ہی نہیں رہ پاتی تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ حیض کا خون نہیں ہے ، بلکہ وہ رحم میں ( شیطان کی طرف سے ) ایک ایڑ ہے ۱؎ تو وہ اپنے حیض کی مقدار کو جس میں اسے حیض آتا تھا یاد رکھے ، پھر اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے ، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 210]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ رحم میں پیر سے مارتا ہے، تو کوئی رگ پھٹ جاتی ہے جس سے خون نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 17954)، مسند احمد 6/ 128، مسند احمد 6/ 129، ویأتي عند المؤلف في الحیض 4 رقم: 356 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ حیض کا خون نہیں ہے ، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حیض کے ( دنوں کے ) برابر نماز ترک کر دیں ، پھر غسل کریں ، اور نماز پڑھیں ، تو وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 211]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر الأرقام: 203، 207، (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّ، فَإِذَا مَرَّ قُرْؤُكِ فَتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ، هَذَا الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَقْرَاءَ حَيْضٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، تو دیکھتی رہو جب حیض ( کا دن ) آ جائے تو نماز چھوڑ دو ، پھر جب تمہارے حیض ( کے دن ) گزر جائیں ، اور تم پاک ہو جاؤ ، تو پھر دونوں حیض کے درمیان نماز پڑھو “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث ہشام بن عروہ نے عروہ سے روایت کی ہے ۲؎ انہوں نے اس چیز کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر منذر نے کیا ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 212]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس حیض کے ختم ہونے سے لے کر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھو، اور جب دوسرا حیض آ جائے تو چھوڑ دو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ «قروء» سے مراد حیض ہے۔ ۲؎: مصنف نے اس جملہ کو اس بات کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید میں «قرء» سے مراد حیض ہے، محققین علماء کی رائے ہے کہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے، حیض اور طہر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، خطابی کہتے ہیں کہ «قرء» دراصل اس وقت کو کہتے ہیں جس میں حیض یا طہر لوٹتا ہے، اسی وجہ سے حیض اور طہر دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ۳؎: یعنی ہشام نے عروہ کے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر نہیں کیا ہے، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حدیث میں انقطاع ہے کیونکہ ہشام نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد عروہ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے واقعہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، ان کی روایت سند اور متن دونوں اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، لیکن بقول امام ابن القیم: عروہ نے فاطمہ سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (280) ابن ماجه (620) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 201، (تحفة الأشراف: 18019) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور عرض کیا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے ، تو میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ تو رگ ( کا خون ) ہے حیض کا خون نہیں ، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب بند ہو جائے تو اپنے ( جسم اور کپڑے سے ) خون دھو لو ، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 213]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 63 (228)، الحیض 8 (306)، 19 (320)، 24 (325)، صحیح مسلم/الحیض 14 (333)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 93 (125)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (621)، (تحفة الأشراف: 17070، 17196، 17259)، موطا امام مالک/فیہ 29 (104)، ویأتي عند المؤلف برقم: 359 (صحیح)
136: بَابُ : ذِكْرِ اغْتِسَالِ الْمُسْتَحَاضَةِ
باب: مستحاضہ کے غسل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال شُعْبَةُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهَا: " أَنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مستحاضہ عورت سے کہا گیا کہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے جو رکتا نہیں ، چنانچہ اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر دیر سے پڑھے اور عصر جلدی پڑھ لے ، اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے ، اور مغرب دیر سے پڑھے اور عشاء جلدی پڑھے ، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے ، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 214]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 112 (294)، مسند احمد 6/172، سنن الدارمی/الطہارة 84 (803)، (تحفة الأشراف: 17495)، ویاتي عند المؤلف برقم: 360 (صحیح)
137: بَابُ : الاِغْتِسَالِ مِنَ النِّفَاسِ
باب: نفاس سے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " مُرْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا والی حدیث میں روایت ہے کہ جس وقت انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آیا ۱؎ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ” اسے حکم دو کہ وہ غسل کر لے ، اور احرام باندھ لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 215]
💡 وضاحت:
۱؎: نفاس اس خون کو کہتے ہیں جو بچہ جننے کے بعد عورت کو آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 16 (1210)، سنن ابن ماجہ/فیہ 12 (2913)، (تحفة الأشراف: 2600)، سنن الدارمی/المناسک 11/1846، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 392، 2762، 2763 (صحیح)
138: بَابُ : الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ".
فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں استحاضہ آتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جب حیض کا خون ہو تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ سیاہ خون ہوتا ہے ، پہچان لیا جاتا ہے ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر لو ، کیونکہ وہ ایک رگ ( کا خون ) ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 216]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 110 (286)، (تحفة الأشراف: 16626)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 217، 362 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ حِفْظِهِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے ، تو جب یہ خون ہو تو نماز سے رک جاؤ ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو کئی راویوں نے روایت کیا ہے ، لیکن جو چیز ابن ابوعدی نے ذکر کی ہے اس کو کسی نے ذکر نہیں کیا ، واللہ تعالیٰ اعلم ، ( یعنی «دم الحیض دم أسود» کا ذکر کسی اور نے اس سند سے نہیں کیا ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 217]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16626)، وأعادہ برقم: 363 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ"، قِيلَ لَهُ: فَالْغُسْلُ؟ قَالَ: " ذَلِكَ لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَتَوَضَّئِي غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے ، پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا نماز چھوڑ دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، حیض نہیں ہے ، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب ختم ہو جائے تو خون کا دھبہ دھو لو ، اور وضو کر لو ، کیونکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض کا خون نہیں ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : غسل ؟ ( یعنی کیا غسل نہ کرے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کسی کو شک نہیں ہے “ ( یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد تو غسل کرنا ضروری ہے ہی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 218]
قال الشيخ الألباني: صحيح الأسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 14 (333)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (621)، (تحفة الأشراف: 16858)، ویأتی عند المؤلف برقم: 364 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، حیض کا خون نہیں ہے ، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو ، پھر جب اس کے بقدر ایام گزر جائیں تو خون دھو لو ، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 219]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 8 (306)، سنن ابی داود/فیہ 109 (283)، (تحفة الأشراف: 17149)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتی عند المؤلف برقم: 366 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ: " وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش ( فاطمہ بنت ابوحبیش ) رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 220]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16956)، ویأتی عند المؤلف برقم: 367 (صحیح)
139: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ اغْتِسَالِ الْجُنُبِ، فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی کے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی ہونے کی حالت میں غسل نہ کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 221]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطھارة 29 (283) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 109 (605)، (تحفة الأشراف: 14936)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 332، 396 (صحیح)
140: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ، فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ وَالاِغَتِسَالِ مِنْهُ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس سے غسل کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر یہ کہ اسی سے غسل بھی کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 222]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ٹھہرا ہوا پانی اگر تھوڑا ہے تو پیشاب کرنے سے نجس (ناپاک) ہو جائے گا، اور اگر زیادہ ہے تو نجس (ناپاک) تو نہیں ہو گا لیکن پانی خراب ہو جائے گا، اور اس کے پینے سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، اس لیے اگر پانی تھوڑا ہو تو نہی تحریمی ہے اور زیادہ ہو تو تنزیہی۔ یعنی تھوڑے پانی میں پیشاب کے ممانعت کا مطلب اس فعل کا حرام ہونا ہے، اور زیادہ پانی ہو تو اس ممانعت کا مطلب نزاہیت و صفائی و ستھرائی مطلوب ہے، حرمت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 13392)، مسند احمد 2/394، 464 ویأتی عند المؤلف برقم: 399 (صحیح)
141: بَابُ : ذِكْرِ الاِغْتِسَالِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
باب: رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَغْتَسِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا اغْتَسَلَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ آخِرَهُ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کس حصہ میں غسل کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کیا ، اور کبھی آخری حصہ میں کیا ، میں نے کہا : شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے معاملہ میں وسعت اور گنجائش رکھی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 223]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 90 (226) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة 179 (1354)، (تحفة الأشراف: 17429)، مسند احمد 6/138، ویأتي عند المؤلف برقم: 405 (صحیح)
142: بَابُ : الاِغْتِسَالِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ
باب: رات کے ابتدائی اور آخری حصہ میں غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں ؟ تو انہوں نے کہا : دونوں وقتوں میں کرتے تھے ، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں ، میں نے کہا : شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 224]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17429) (صحیح)
143: بَابُ : ذِكْرِ الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ
باب: غسل کرتے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: " وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، فَأَسْتُرُهُ بِهِ".
ابو سمح ( ایاد ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، تو جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے : ” میری طرف اپنی گدی کر لو “ تو میں اپنی گدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے آپ کو آڑ کر لیتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 225]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 137 (376) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526)، 113 (613)، (تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُ" يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَتْ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں غسل کرتے ہوئے ملے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں ، ( ام ہانی کہتی ہیں ) میں نے سلام کیا ۱؎ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ام ہانی ہوں ، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے ، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 226]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے جو غسل کر رہا ہو اسے سلام کرنے کا جواز ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357) مطولاً، الجزیة 9 (3171) مطولاً، المغازي 50 (4292)، الأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/السیر 26 (1579)، الاستئذان 34 (2734) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطھارة 59 (465) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 18018)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1290)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (27)، مسند احمد 6/341، 342، 343، 423، 425، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)
144: بَابُ : ذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْغُسْلِ
باب: کتنا پانی آدمی کے غسل کے لیے کافی ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، قال: أُتِيَ مُجَاهِدٌ بِقَدَحٍ حَزَرْتُهُ ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يَغْتَسِلُ بِمِثْلِ هَذَا".
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ مجاہد کے پاس ایک برتن لایا گیا ، میں نے اس میں آٹھ رطل پانی کی سمائی کا اندازہ کیا ، تو مجاہد نے کہا : مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی قدر پانی سے غسل فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 227]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17581)، مسند احمد 6/51 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ صَاعٍ، فَسَتَرَتْ سِتْرًا فَاغْتَسَلَتْ، فَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان کے رضائی بھائی بھی آئے ، تو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا ؟ ، تو آپ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگایا جس میں ایک صاع کے بقدر پانی تھا ، پھر ایک پردہ ڈال کر غسل کیا ، اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 228]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 3 (251)، صحیح مسلم/الحیض10 (320)، (تحفة الأشراف: 17792)، مسند احمد 6/71، 72، 143، 144، 173 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ، وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدح ( ٹب ) سے غسل کرتے تھے ، اور اس کا ۱؎ نام فرق ہے ، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 229]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل پانی آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 72، (تحفة الأشراف: 16586) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ".
عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک «مکوک» سے وضو کرتے اور پانچ «مکاکی» سے غسل کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 230]
💡 وضاحت:
۱؎: «مکاکی» ، «مکوک» کی جمع ہے جو اصل میں «مکاکک» ہے، اس کا کاف یا سے بدل دیا گیا ہے، یہ ایک پیمانہ کا نام ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے معنی مد کے ہیں، اور کچھ لوگوں کے نزدیک اس سے مراد صاع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 73، ویأتی برقم: 346، (تحفة الأشراف: 962) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قال: تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ: " يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ"، قُلْنَا: مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ، قَالَ جَابِرٌ: " قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا".
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ہم نے کہا : ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہو گا ، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ۱؎ جو تم سے زیادہ اچھے ، اور زیادہ بالوں والے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 231]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 3 (252)، (تحفة الأشراف: 2641) (صحیح)
145: بَابُ : ذِكْرِ الدِّلاَلَةِ عَلَى أَنَّهُ لاَ وَقْتَ فِي ذَلِكَ
باب: غسل کے لیے پانی کی تحدید نہ ہونے کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَدْرُ الْفَرَقِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، اور وہ فرق کے بقدر ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 232]
💡 وضاحت:
۱؎: فرق ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل کی سمائی ہوتی ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ۱۲ مد یا تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16533، 16666)، من طریق معمر وحدہ، مسند احمد 6/127، 173، ومن طریق معمر وابن جریج مقرونین، مسند احمد 6/199 (صحیح)
146: بَابُ : ذِكْرِ اغْتِسَالِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
باب: شوہر اور بیوی کے ایک برتن سے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، ہم دونوں اس سے لپ سے ایک ساتھ پانی لیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 233]
قال الشيخ الألباني: صحيح خ م دون الاغتراف واللفظ لقتيبة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16976، 17174)، موطا امام مالک/الطہارة 17 (28) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 234]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 9 (263)، (تحفة الأشراف: 71493)، مسند احمد 6/172 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِي" أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پانی کے ) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں ( میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں ) میں اور آپ ( ہم دونوں ) اسی سے غسل کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 235]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 5 (299) مطولاً، سنن ابی داود/الطہارة 39 (77)، (تحفة الأشراف: 15983)، مسند احمد 6/189، 191، 192، 210 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 236]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: أنظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 15983) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، أَنَّهَا كَانَتْ" تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 237]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض10 (322)، سنن الترمذی/الطھارة 46 (62)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (377)، (تحفة الأشراف: 18067)، مسند احمد 6/329 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ قالت: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً" رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهُمَا، ثُمَّ نُفِيضَ عَلَيْهَا الْمَاءَ". قَالَ الْأَعْرَجُ: لَا تَذْكُرُ فَرْجًا وَلَا تَبَالَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ناعم نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیوی شوہر کے ساتھ غسل کر سکتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، جب سلیقہ مند ہو ، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک لگن سے غسل کرتے تھے ، ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے یہاں تک کہ انہیں صاف کر لیتے ، پھر اپنے بدن پر پانی بہاتے ۔ اعرج ( «كيّسة» کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ سلیقہ مند وہ ہے جو نہ تو شوہر کے ساتھ غسل کرتے وقت شرمگاہ کا خیال ذہن میں لائے ، اور نہ بیوقوفی ( پھوہڑپن ) کا مظاہرہ کرے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 238]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 18215)، مسند احمد 6/323 (صحیح الاسناد)
147: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ الاِغْتِسَالِ، بِفَضْلِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا".
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تھا ، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے ، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎ ، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ۲؎ ، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 239]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں «ترفّہ» اور «تنعم» کے قبیل کی ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیئے اور اگر ضرورت اس کی متقاضی ہو تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابوقتادہ کی روایت ہے کہ ان کے بال بہت گھنے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے پوچھا، تو انہیں روزانہ اپنے بالوں کو سنوارنے اور کنگھی کرنے کا حکم دیا۔ ۲؎: یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، نیز دیکھیں حدیث ما بعد۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 15 (28)، 40 (81)، (تحفة الأشراف: 15554، 15555)، مسند احمد 4/110، 111، 5/369 و یأتي عند المؤلف برقم: 5057 (صحیح)
148: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءِ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولُ أَنَا: دَعْ لِي". قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، ( کبھی ) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے ، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میرے لیے چھوڑ دو “ ، اور میں کہتی : میرے لیے چھوڑ دیجئیے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 240]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 10 (321)، (تحفة الأشراف: 17969)، مسند احمد 6/91، 103، 118، 123، 161، 171، 172، 193، 235، 265، ویأتي عند المؤلف برقم: 414 (صحیح)
149: بَابُ : ذِكْرِ الاِغْتِسَالِ فِي الْقَصْعَةِ الَّتِي يُعْجَنُ فِيهَا
باب: آٹا گوندھنے کے برتن سے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ هُوَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایک ہی برتن سے غسل کیا ، ایک ٹب سے جس میں گندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 241]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (378) ابن أبى نجيح مدلس وعنعن. وحديث الآتي (415) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 35 (378)، (تحفة الأشراف: 18012)، مسند احمد 6/342 (صحیح)
150: بَابُ : ذِكْرِ تَرْكِ الْمَرْأَةِ نَقْضَ ضَفْرَ رَأْسِهَا عِنْدَ اغْتِسَالِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت کے وقت عورت کا اپنی چوٹیاں نہ کھولنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهَا عِنْدَ غَسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى جَسَدِكِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کی چوٹی مضبوط باندھتی ہوں ، تو کیا اسے غسل جنابت کے وقت کھولوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لو ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 242]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 12 (330)، سنن ابی داود/الطھارة 100 (251)، سنن الترمذی/فیہ 77 (105)، سنن ابن ماجہ/فیہ 108 (603)، (تحفة الأشراف: 18172)، مسند احمد 6/289، 315، سنن الدارمی/الطھارة 115 (1196) (صحیح)
151: بَابُ : ذِكْرِ الأَمْرِ بِذَلِكَ لِلْحَائِضِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ لِلإِحْرَامِ
باب: حائضہ کو احرام کے غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَاهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ إِلَّا أَشْهَبُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا ، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی ، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی ، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا سر کھول لو ، کنگھی کر لو ، حج کا احرام باندھ لو ، اور عمرہ چھوڑ دو “ ، چنانچہ میں نے ( ایسا ہی ) کیا ، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا ( وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور ) میں نے عمرہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے “ ( جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں : ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے ، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 243]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث مالک عن بن شہاب أخرجہ، صحیح البخاری/18 (319)، الحج 31 (1556)، 77 (1638)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/فیہ 23 (1781)، (تحفة الأشراف: 16591)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 38 (3000)، موطا امام مالک/ الحج 74 (223)، مسند احمد 6/ 86، 164، 168، 169، 77ا، 191، 246، وحدیث مالک عن ہشام بن عروة، تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17175)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2765 (صحیح)
152: بَابُ : ذِكْرِ غَسْلِ الْجُنُبِ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ
باب: برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے جنبی کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وُضِعَ لَهُ الْإِنَاءُ، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، حَتَّى إِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ صَبَّ بِالْيُمْنَى وَغَسَلَ فَرْجَهُ بِالْيُسْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ صَبَّ بِالْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا ، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے ، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے ، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر تین بار کلی کرتے ، اور ناک میں پانی ڈالتے ، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر ( پانی ) بہاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 244]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، 15 (272)، صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (242)، سنن الترمذی/الطھارة 76 (103)، مسند احمد 6/ 96، 115، 143، 161، 173، موطا امام مالک/الطھارة 17 (67)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 245، 246، 247 (صحیح)
153: بَابُ : ذِكْرِ عَدَدِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ إِدْخَالِهِمَا الإِنَاءَ
باب: دونوں ہاتھ برتن میں ڈالنے سے پہلے انہیں کتنی بار دھویا جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے ، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے ، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 245]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الإسناد)
154: بَابُ : إِزَالَةِ الْجُنُبِ الأَذَى عَنْ جَسَدِهِ، بَعْدَ غَسْلِ يَدَيْهِ
باب: دونوں ہاتھ دھونے کے بعد جنبی کا اپنے جسم سے نجاست دور کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قال: أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَيَغْسِلُهُمَا، ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( پانی کا ) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ، اور انہیں دھوتے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، کلی کرتے ، پھر ناک میں پانی ڈالتے ، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے ، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 246]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 244، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الإسناد)
155: بَابُ : إِعَادَةِ الْجُنُبِ غَسْلَ يَدَيْهِ بَعْدَ إِزَالَةِ الأَذَى عَنْ جَسَدِهِ
باب: جنبی کا اپنے جسم کی نجاست دور کرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ: " كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، قَالَ عُمَرُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا ، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے ، عمر بن عبید کہتے ہیں : میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے ( عطا بن سائب ) کہا : آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے ، پھر تین بار کلی کرتے ، تین بار ناک میں پانی ڈالتے ، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے ، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 247]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہاتھ دو بار دھوئے، ایک تو شروع میں دوسرے نجاست صاف کرنے کے بعد۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 244، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الاسناد)
156: بَابُ : ذِكْرِ وُضُوءِ الْجُنُبِ قَبْلَ الْغُسْلِ
باب: غسل سے پہلے جنبی کے وضو کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے ، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر وضو کرتے ، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے ، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 248]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، (تحفة الأشراف: 17164)، موطا امام مالک/الطہارة 17 (67)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح الإسناد)
157: بَابُ : تَخْلِيلِ الْجُنُبِ رَأْسَهُ
باب: جنبی کے اپنے سر کا خلال کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ كَانَ" يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ ( پانی ) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 249]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17331)، مسند احمد 6/52، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے ، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 250]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16937)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 76 (104) (صحیح)
158: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ
باب: سر پر کتنا پانی بہانا جنبی کے لیے کافی ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قال: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنِّي لَأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے ، قوم کا ایک شخص کہنے لگا : میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 251]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 4 (254) مختصرًا، صحیح مسلم/الحیض 11 (327)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (239)، سنن ابن ماجہ/فیہ 95 (575)، (تحفة الأشراف: 3186)، صحیح مسلم/81، 84، 85، ویأتي عندالمؤلف برقم: 425 (صحیح)
159: بَابُ : ذِكْرِ الْعَمَلِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض کا غسل کیسے کیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَخْبَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ: " خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: وَكَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَاسْتَتَرَ كَذَا، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتَّبِعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے ، پھر فرمایا : ( غسل کے بعد ) ” مشک لگا ہوا ( روئی کا ) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو “ ، ( عورت بولی ) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پردہ کر لیا ( یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کر لی ) پھر فرمایا : ” سبحان اللہ ! اس سے پاکی حاصل کرو “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا ، اور ( چپکے سے اس کے کان میں ) کہا : اسے خون کے نشان پر پھیرو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 252]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 13 (314)، 14 (315)، الاعتصام 24 (7357)، صحیح مسلم/الحیض 13 (332)، (تحفة الأشراف: 17859)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 122 (314)، سنن ابن ماجہ/فیہ 124 (632)، مسند احمد 6/122، سنن الدارمی/الطھارة 84، 800، ویاتٔي عند المؤلف برقم: 427 (صحیح)
160: بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ بَعْدِ الْغُسْلِ
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 253]
💡 وضاحت:
۱؎: غسل سے غسل جنابت مراد ہے کیونکہ ابن ماجہ کی روایت «لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة» میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (107) ابن ماجه (579) وانظر الحديث الآتي (430) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: حدیث الحسن بن صالح عن أبی إسحاق تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16019)، مسند احمد 6/235، حدیث شریک بن عبداللہ، عن أبی إسحاق قد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 79 (107)، سنن ابن ماجہ/فیہ 96 (579)، (تحفة الأشراف: 16025)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 99 (250)، مسند احمد 6/68، 119، 154، 192، 253، 258، ویأتي عند المؤلف برقم: 430 (صحیح)
161: بَابُ : غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي غَيْرِ الْمَكَانِ الَّذِي يَغْتَسِلُ فِيهِ
باب: غسل کی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قالت: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے ، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا ، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا ، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا ، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا ، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 254]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (245)، سنن الترمذی/فیہ 76 (103)، سنن ابن ماجہ/فیہ 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/329، 330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (738)، 67 (774)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 408، 418، 419، 428 (صحیح)
162: بَابُ : تَرْكِ الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْغُسْلِ
باب: غسل کے بعد (بدن پوچھنے کے لیے) تولیہ نہ لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ فَأُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ بِالْمَاءِ هَكَذَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ۱؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 255]
💡 وضاحت:
۱؎: ممکن ہے آپ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو، یا تولیہ صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن پوچھنے کو ناپسند کیا ہو، لہٰذا یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں ہے: «كان للنبي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوئ» اور معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت کے بھی منافی نہیں جس میں ہے: «رأيت رسول الله رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه» اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں کلام ہے لیکن ایک دوسرے سے تقویت پا رہی ہیں۔ ۲؎: اس سے ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے کا جواز ثابت ہوا، اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 6351) (صحیح): یقول المزی: المحفوظ حدیث ابن عباس، عن میمونة (وحدیث میمونة قد تقدم برقم: 245)
163: بَابُ : وُضُوءِ الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ
باب: جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے وضو کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ". زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے ، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 256]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 89 (224)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 103 (591)، (تحفة الأشراف: 15926)، مسند احمد 6/126، 143، 191، 192، 235، 260، 273، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، الأطمة 36 (2123) (صحیح)
164: بَابُ : اقْتِصَارِ الْجُنُبِ عَلَى غَسْلِ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ
باب: جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے ، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 257]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کبھی تو بیان جواز کے لیے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 88 (223)، سنن ابن ماجہ/فیہ 99 (584)، 104 (593)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، 27 (288)، مسند احمد 6/36، 102، 200، 279، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 258، 259 (صحیح)
165: بَابُ : اقْتِصَارِ الْجُنُبِ عَلَى غَسْلِ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ
باب: جنبی جب پینے کا ارادہ کرے تو اس کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ، قَالَتْ: غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے ، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 258]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 17769) (صحیح)
166: بَابُ : وُضُوءِ الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ
باب: جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 259]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 257 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ وضو کر لے “ ( تو سو سکتا ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 260]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن الترمذی/الطھارة 88 (120)، (تحفة الأشراف: 8178، 10552)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 27 (289)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (585)، مسند احمد 2/ 17، 35، 36، 44، 102 (صحیح)
167: بَابُ : وُضُوءِ الْجُنُبِ وَغَسْلِ ذَكَرِهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ
باب: جنبی کے سونے کا ارادہ کرنے پر اپنا عضو مخصوص دھونے اور وضو کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو ، پھر سو جاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 261]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 27 (290)، صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن ابی داود/الطھارة 87 (221)، (تحفة الأشراف: 7224)، موطا امام مالک/الطہارة 19 (76)، مسند احمد 1/50، 46، 56، 64، 75، 116، 2/64 (صحیح)
168: بَابُ : فِي الْجُنُبِ إِذَا لَمْ يَتَوَضَّأْ
باب: جنبی جب وضو نہ کرے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ، کتا یا جنبی ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 262]
💡 وضاحت:
اس سے مراد رحمت اور برکت کے فرشتے ہیں، نہ کہ وہ فرشتے جو جنبی اور غیر جنبی کسی سے جدا نہیں ہوتے۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے۔ کتا سے مراد وہ کتا ہے جو شکار یا گھر اور کھیت وغیرہ کی رکھوالی کے لیے نہ ہو۔ جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو غسل میں سستی کرتا ہو، اور دیر سے غسل کرنا اس کی عادت ہو گئی ہو، یا وہ جنبی ہے جس نے وضو نہ کیا ہو جیسا کہ مصنف نے باب کے ذریعہ اشارہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 90 (227)، اللباس 48 (4152)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3650)، (بدون قولہ’’ولاجنب‘‘)، (تحفة الأشراف: 10291)، مسند احمد 1/83، 104، 139، سنن الدارمی/الاستئندان 34، 2705، وأعادہ المؤلف برقم: 4286 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نجی‘‘ اور ان کا اضافہ ’’ولاجنب‘‘ ہی ضعیف ہے، ورنہ اس کے سوا باقی ٹکڑے صحیحین میں دیگر صحابہ سے مروی ہیں)
169: بَابُ : فِي الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ
باب: اگر جنبی دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعُودَ تَوَضَّأَ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 263]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (308) مطولاً، سنن ابی داود/الطھارة 86 (220) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة 107 (141) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 100 (587) مطولاً، (تحفة الأشراف: 4250)، مسند احمد 3/ 7، 21، 28 (صحیح)
170: بَابُ : إِتْيَانِ النِّسَاءِ قَبْلَ إِحْدَاثِ الْغُسْلِ
باب: کئی عورتوں سے جماع کرنے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 264]
💡 وضاحت:
۱؎: (یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 85 (218)، (تحفة الأشراف: 568) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ( سبھی ) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے ( جماع کرتے ) تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 265]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطھارة 106 (140)، سنن ابن ماجہ/فیہ 101 (588)، (تحفة الأشراف: 1336)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، مسند احمد 3/161، 185 (صحیح) ولفظ البخاري من ھذا الطریق: ”کان یطوف علی نسائہ في الساعة الواحدة وفي روایة: في اللیلة الواحدة‘‘ (وبدون ذکر الغسل) (الغسل 12 (268)، 24 (284)، وانکاح 4 (5068)، 102 (5215)
171: بَابُ : حَجْبِ الْجُنُبِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
باب: جنبی کو قرآن پڑھنے سے روکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قال: أَتَيْتُ عَلِيًّا أَنَا وَرَجُلَانِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ".
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو قرآن مجید پڑھتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 266]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 91 (229) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة 111 (146)، بلفظ ــ’’یقرء نا القرآن‘‘ مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ 105 (594)، (تحفة الأشراف: 10186)، مسند احمد 1/83، 84، 107، 124، 134 (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبد اللہ بن سلمہ“ مختلط ہو گئے تھے، اور عمرو کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ الرِّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَيْسَ الْجَنَابَةَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 267]
💡 وضاحت:
۱؎: اس عموم سے جنابت کی طرح عین پاخانہ و پیشاب کی حالت بھی خارج ہے، چوں کہ عقلاً یہ دونوں اس عموم میں داخل نہیں ہیں اسی لیے ان کے استثناء کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
172: بَابُ : مُمَاسَةِ الْجُنُبِ وَمُجَالَسَتِهِ
باب: جنبی کو چھونے اور اس کے ساتھ بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس ( کے جسم ) پر ہاتھ پھیرتے ، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے ، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا ، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے ؟ “ میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 268]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنبی ہونے سے اس کا جسم اس طرح نجس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھو لے تو ہاتھ نجس ہو جائے، اس کی نجاست حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 3392)، مسند احمد 5/384، 402 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قال: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَهْوَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے ، اور وہ ( حذیفہ ) جنبی تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان نجس نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 269]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں راوی نے اختصار سے کام لیا ہے، ورنہ یہ واقعہ بھی وہی ہے جو اوپر گذرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 29 (372) مطولاً، سنن ابی داود/الطھارة 92 (230)، سنن ابن ماجہ/فیہ 80 (535) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3339) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے ، اور وہ اس وقت جنبی تھے ، تو وہ چپکے سے نکل گئے ، اور ( جا کر ) غسل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں پایا ، تو جب وہ آئے ، تو آپ نے پوچھا ” ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟ “ تو انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا ، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! ۱؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 270]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ کہہ کر ان کے ایسا کرنے اور مومن کے نجس ہونے کا عقیدہ رکھنے پر آپ نے تعجب کا اظہار کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 23 (283)، 24 (285)، صحیح مسلم/الحیض 29 (371)، سنن ابی داود/الطھارة 92 (231)، سنن الترمذی/فیہ 89 (121)، سنن ابن ماجہ/فیہ 80 (534)، (تحفة الأشراف: 14648)، مسند احمد 2/235، 282، 471 (صحیح)
173: بَابُ : اسْتِخْدَامِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ سے کام لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، نَاوِلِينِي الثَّوْبَ"، فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أُصَلِّي، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ"، فَنَاوَلَتْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! مجھے کپڑا دے دو “ ، کہا : میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے “ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 271]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حائضہ ہوں۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں کوئی چیز رکھ سکتی ہے یا مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 2 (299)، (تحفة الأشراف: 13443)، مسند احمد 2/428، ویأتي عند المؤلف في الحیض 18 (برقم: 383) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے مسجد سے چٹائی دے دو “ ، انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 272]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض2 (298)، سنن ابی داود/الطھارة 104 (261)، سنن الترمذی/فیہ 101 (134)، (تحفة الأشراف: 17446)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/فیہ 120 (632)، مسند احمد 6/45، 101، 112، 114، 173، 214، 229، 245، سنن الدارمی/الطھارة 82 (798)، 108 (1111)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 18 (برقم: 384) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابومعاویہ کی سند سے اعمش سے ، پھر اسی کے مثل باقی سند سے حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 273]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ما قبلہ (صحیح)
174: بَابُ : بَسْطِ الْحَائِضِ الْخُمْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں حائضہ کے چٹائی بچھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِالْخُمْرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی ، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی ، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے ( مسجد میں ) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 274]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أم منبوذ: لم أجد من وثقها. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 18086)، مسند احمد 6/331، 334، ویأتي عند المؤلف في الحیض19 برقم: 385 (حسن)
175: بَابُ : فِي الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ
باب: حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 275]
💡 وضاحت:
۱؎: اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں، جیسا کہ مؤلف کے علاوہ دیگر رواۃ نے اس کی صراحت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض3 (297)، التوحید 52 (7549)، صحیح مسلم/الحیض 3 (301)، سنن ابی داود/الطھارة 103 (260)، سنن ابن ماجہ/فیہ 120 (634)، (تحفة الأشراف: 17858)، مسند احمد 6/117، 135، 148، 158، 190، 204، 258، ویأتي عند المؤلف في الحیض 16 (برقم: 381) (حسن)
176: بَابُ : غَسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا
باب: حائضہ کے اپنے شوہر کا سر دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُومِئُ إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف اپنا سر بڑھاتے ، تو میں اسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 276]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 5 (301)، الاعتکاف 4 (2031)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297)، (تحفة الأشراف: 15990)، مسند احمد 6/32، 55، 86، 170، 204، ویأتي عند المؤلف في الحیض 21، (برقم: 387) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ آخَرُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے ، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 277]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض3 (297)، (تحفة الأشراف: 16393) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی اور میں حائضہ ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 278]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 2 (295)، اللباس76 (5925)، الشمائل 4 (31)، (تحفة الأشراف: 17154)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 3 (297)، سنن الترمذی/الصوم 80 (804)، موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، مسند احمد 6/104، 231، 232، سنن الدارمی/الصلاة 108 (1098، 1099)، ویأتي عند المؤلف برقم: 386، 389 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، مِثْلَ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 279]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 76 (5925)، (تحفة الأشراف: 16604) (صحیح)
177: بَابُ : مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَالشُّرْبِ مِنْ سُؤْرِهَا
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَأَلْتُهَا: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ؟ قالت: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ".
شریح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے ، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی ، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے ، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ، آپ پانی مانگتے ، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے ، چنانچہ میں لے کر پیتی ، پھر اسے رکھ دیتی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور پیتے ، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 280]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ ایسا اظہار محبت اور بیان جواز کے لیے کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 70 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، فَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ سُؤْرِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ ( برتن میں ) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں ( منہ لگا کر ) پیتی تھی ، آپ میرا بچا ہوا جوٹھا پیتے ، اور میں حائضہ ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 281]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)
178: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کا جھوٹا پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پانی کا برتن دیتے ، میں اس میں سے پیتی ، اور میں حائضہ ہوتی تھی ، پھر میں آپ کو دیتی ، آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے ، اور اپنا منہ اسی جگہ رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 282]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ( پانی ) پیتی اور میں حائضہ ہوتی ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی ، تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھ کر پیتے ، اور میں ہڈی سے گوشت ( نوچ کر ) کھاتی ، اور حائضہ ہوتی ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 283]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)
179: بَابُ : مُضَاجَعَةِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے ساتھ لیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قالت: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا ، تو میں آہستہ سے کھسک آئی اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھنے لگے : ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، تو ( جا کر ) میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 284]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 4 (298)، 21 (322)، 22 (323)، الصوم 24 (1929) صحیح مسلم/فیہ 2 (296)، (تحفة الأشراف: 18270)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 121 (637)، مسند احمد 6/300، 318، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1085)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 10 (برقم: 371) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ أَوْ حَائِضٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے ، اور میں حائضہ ہوتی ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے ، اس سے تجاوز نہ کرتے ، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے ، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے ، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے ، اس سے تجاوز نہ فرماتے ، اور اسی میں نماز پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 285]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 107 (269)، انکاح 47 (2166)، (تحفة الأشراف: 16067)، مسند احمد 6/44، سنن الدارمی/الطھارة 105 (1053)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 372، 774 (صحیح)
180: بَابُ : مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے ساتھ چمٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے ، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 286]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17420)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 5 (302)، صحیح مسلم/فیہ 1 (293)، سنن ابی داود/الطھارة 107 (268)، سنن الترمذی/الطھارة 99 (132)، الصوم 32 (728)، سنن ابن ماجہ/الطھارہ 121 (636)، مسند احمد 6/113، 160، 174، 182، 204، 206، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1087، 1088)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 12برقم: 383 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ، " أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے ، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 287]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «يباشرها» کا لفظ آیا ہے یہاں مباشرت سے جماع مراد نہیں کہ یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کیسے مباشرت کرتے جبکہ حائضہ سے مباشرت حرام ہے، بلکہ یہاں بوس و کنار اور لیٹنا مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض5 (299)، الصوم 4 (2030)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن ابی داود/الطہارة 107 (268)، سنن الترمذی/الطہارة 99 (132)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 121 (636)، (تحفة الأشراف: 15982)، مسند احمد 6/55، 134، 174، 189، 209، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1077)، ویأتی عندالمؤلف برقم: 374 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَاللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ بُدَيَّةَ وَكَانَ اللَّيْثُ، يَقُولُ: نَدَبَةَ مَوْلَاةُ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ وَالرُّكُبَتَيْنِ" فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ: مُحْتَجِزَةً بِهِ.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی جب اس پر تہبند ہوتا ، جو آدھی ران اور گھٹنے تک پہنچتا ، لیث کی روایت میں ہے : وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 288]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں بھی مباشرت سے لیٹنا ہی مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (267) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 107 (267)، مسند احمد 6/332، 335، 336، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1097)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 13 (برقم: 376)، (تحفة الأشراف: 18085)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض5 (303)، صحیح مسلم/الحیض 1 (294) (صحیح)
181: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ }
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ : ۲۲۲ ) ” لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، آپ فرما دیجئیے : وہ گندگی ہے “ نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں ، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں ، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 289]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2977)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644)، (تحفة الأشراف: 308)، مسند احمد 3/132، 246، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1093)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 8، باتم مما ھنا (برقم: 369) (صحیح)
182: بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى مَنْ أَتَى حَلِيلَتَهُ فِي حَالِ حَيْضَتِهَا بَعْدَ عِلْمِهِ بِنَهْىِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ وَطْئِهَا
باب: حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي" الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے ، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 290]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہو جانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (264) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 106 (264)، النکاح 48 (2168)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 123 (640)، (تحفة الأشراف: 6490)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 103 (137)، مسند احمد 1/229، 237، 272، 286، 312، 325، 363، 367، سنن الدارمی/الطھارة 112 (1146، 1147)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 9، (برقم: 370) (صحیح)
183: بَابُ : مَا تَفْعَلُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَاضَتْ
باب: محرم عورت جب حائضہ ہو جائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كَانَ بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنَّ لَا بِالْبَيْتِ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہمیں صرف حج کرنا تھا ، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہو گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ حائضہ ہو گئی ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کر دیا ہے ، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا “ ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 291]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 7 (294)، الحج 33 (1560)، و 81 (1650)، العمرة 9 (1788)، الأضاحي 3 (5548)، 10 (5559)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/فیہ 23 (1782)، سنن ابن ماجہ/فیہ 36 (2963)، مسند احمد 6/39، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 349، 2742، 2993، (تحفة الأشراف: 17482) (صحیح)
184: بَابُ : مَا تَفْعَلُ النُّفَسَاءُ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام باندھنے کے وقت نفاس والی عورتیں کیا کریں؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: " اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي".
محمد کہتے ہیں کہ ہم لوگ جابر بن عبداللہ کے پاس آئے ، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے متعلق دریافت کیا ، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو نکلے ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے ، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنا ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ اب میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غسل کر لو اور لنگوٹ کس لو ، پھر لبیک پکارو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 292]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2617)، ویأتي عند المؤلف برقم: 215 (صحیح)
185: بَابُ : دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ: " حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لکڑی سے کھرچ دو ، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 293]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 132 (363)، سنن ابن ماجہ/فیہ 118 (628)، (تحفة الأشراف: 18344)، مسند احمد 6/355، 356، سنن الدارمی/الطھارة 105 (1059)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 26 (برقم: 395) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ تَكُونُ فِي حَجْرِهَا، أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ وَصَلِّي فِيهِ".
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتی ہیں ( وہ ان کی گود میں پلی تھیں ) کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کھرچ دو ، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو ، پھر اسے دھو لو ، اور اس میں نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 294]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 63 (227)، الحیض 9 (306)، صحیح مسلم/الطھارة 33 (291)، سنن ابی داود/الطہارة 132 (361، 362)، سنن الترمذی/الطھارة 104 (138)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 118 (629)، موطا امام مالک/الطہارة 28 (103)، مسند احمد 6/345، 346، 353، سنن الدارمی/الطہارة 83 (799)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 26 (برقم: 394)، (تحفة الأشراف: 15743) (صحیح)
186: بَابُ : الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ يُجَامِعُ فِيهِ؟ قَالَتْ: " نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى".
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہاں ! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 295]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 133 (366)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 83 (540)، مسند احمد 6/325، 426، سنن الدارمی/الصلاة 102 (1415، 1416)، (تحفة الأشراف: 15868) (صحیح)
187: بَابُ : غَسْلِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ
باب: کپڑے سے منی دھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کا اثر دھوتی تھی ۱؎ ، پھر آپ نماز کے لیے نکلتے ، اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر باقی ہوتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 296]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں اس سے مراد منی ہے، اور منی ایک قسم کی رطوبت ہے جو مرد کی شرمگاہ سے شہوت کے وقت اچھلتے ہوئے خارج ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 64 (229، 230)، 65 (231)، صحیح مسلم/الطھارة 32 (289)، سنن ابی داود/فیہ 36 (373)، سنن الترمذی/فیہ 86 (117)، سنن ابن ماجہ/فیہ 81 (536)، (تحفة الأشراف: 16135)، مسند احمد 6/48، 142، 162، 235 (صحیح)
188: بَابُ : فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ
باب: کپڑے سے منی مل کر صاف کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن الحرث بن نوفل عن عائشة قالت: كنت أفرك الجنابة وقالت مرة أخرى المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت مل کر صاف کر دیتی ۱؎ ، دوسری مرتبہ کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل کر صاف کر دیتی تھی ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 297]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں، خشک ہو تو اسے کھرچ دینے یا مل دینے، اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کر دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے، امام شافعی، داود ظاہری، اور امام احمد کی رائے میں منی پاک ہے، وہ منہ کے لعاب کی طرح ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے علی، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مسلک ہے، اس کے برعکس امام مالک اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ منی ناپاک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک منی اگر خشک ہو تو کھُرچ دینے سے پاک ہو جاتی ہے، دھونا ضروری نہیں، اس کے برعکس امام مالک کے نزدیک خشک ہو یا تر دونوں صورتوں میں دھونا ضروری ہے، منی کو پاک قرار دینے والوں کی دلیل کھرچنے والی حدیثیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر نجس ہوتی تو کھرچنے کے بعد اسے دھونا ضروری ہوتا، اور جن لوگوں نے ناپاک کہا ہے ان کی دلیل وہ روایتیں ہیں جن میں دھونے کا حکم آیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر پاک ہوتی تو اسے دھونے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جو لوگ پاک کہتے ہیں وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کپڑے کا دھونا نظافت کے لیے ہے نجاست کی وجہ سے نہیں۔ ۲؎: بظاہر اوپر والی روایت میں اور اس روایت میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ «فرک» (ملنے اور رگڑنے) والی روایتیں خشک منی پر محمول ہوں گی کیونکہ منی جب گیلی ہو تو ملنے سے صاف نہیں ہو گی، اور دھونے والی روایتیں تر منی پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16057) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا عمرو بن يزيد قال حدثنا بهز قال حدثنا شعبة قال الحكم أخبرني عن إبراهيم عن همام بن الحرث أن عائشة قالت: لقد رأيتني وما أزيد على أن أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتی تھی کہ اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے مل دوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 298]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، سنن ابی داود/الطہارة 136 (371)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 82 (537)، مسند احمد 6/43، 125، 135، 193، 263، (تحفة الأشراف: 17676) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا الحسين بن حريث أنبأنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أفركه من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے ( یعنی منی کو ) مل دیتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 299]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 298 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا شعيب بن يوسف عن يحيى بن سعيد عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أراه في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحكه ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں اسے ( یعنی منی کو ) دیکھتی تو اسے رگڑ دیتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 300]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 298 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد بن زيد عن هشام بن حسان عن أبي معشر عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أفرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت ( منی کے اثر کو ) مل رہی ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 301]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، (تحفة الأشراف: 15941) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا محمد بن كامل المروزي قال حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحته عنه ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کر دیتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 302]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 82 (539)، (تحفة الأشراف: 15976) (صحیح)
189: بَابُ : بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ
باب: دودھ پینے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا ، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار ، اور اسے دھویا نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 303]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، الطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطہارة 31 (287)، سنن ابی داود/الطھارة 137 (374)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (71)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342)، موطا امام مالک/الطھارة 30 (110)، مسند احمد 6/355، 356، سنن الدارمی/الطھارة 63 (768) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ( دودھ پینے والا ) بچہ لایا گیا ، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا ، تو آپ نے پانی منگایا ، اور اسے اس پر بہا دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 304]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 59 (222)، العقیقة 1 (5468)، الأدب 21 (6002)، الدعوات 30 (6355)، (تحفة الأشراف: 17163)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 31 (286)، سنن ابن ماجہ/فیہ 77 (523)، موطا امام مالک/الطہارة30 (109) مسند احمد 6/52، 210، 212 (صحیح)
190: بَابُ : بَوْلِ الْجَارِيَةِ
باب: بچی کے پیشاب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ".
ابو سمح رضی اللہ عنہ ( خادم النبی ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچی کا پیشاب دھویا جائے گا ، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 305]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک روایت میں «مالم یطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لیے جو روایتیں مطلق ہیں، انہیں مقید پر محمول کیا جائے گا یعنی دونوں کے پیشاب میں یہ تفریق اس وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، کھانا کھانے لگ جانے کے بعد دونوں کے پیشاب کا حکم یکساں ہو گا، دونوں کا پیشاب دھونا ضروری ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 12052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526) (صحیح)
191: بَابُ : بَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ
باب: حلال جانوروں کے پیشاب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہم لوگ مویشی والے ہیں ( جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے ) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں ، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے ، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں ، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں ۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے ، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا ، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا ( چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور ) آپ کے پاس لائے گئے ، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎ ، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے ، پھر اسی حال میں انہیں ( مقام ) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 306]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲؎: ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس وجہ سے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں، لیکن یہ روایت بقول امام ترمذی غریب ہے، یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی نے بھی اس میں یزید بن زریع کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 66 (233)، الزکاة 68 (1501)، الجھاد 184 (3064)، المغازي 36 (4192)، الطب 5 (5685)، 29/5727، الحدود 15 (6802)، 18 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 1176)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن ابن ماجہ/فیہ 30 (3503)، مسند احمد 3/161، 163، 170، 233، ویأتي عند المؤلف برقم: 4037 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ" وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ. قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا، قَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَنَسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ، وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مُرْسَلٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) آئے ، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی ، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے ، اور پیٹ پھول گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں ، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے ، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا ، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا ، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا ، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے ، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 307]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1664)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4040 (صحیح الاسناد)
192: بَابُ : فَرْثِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حلال جانوروں کے لید، گوبر کپڑوں میں لگ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيم، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَمَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ وَقَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَيُّكُمْ يَأْخُذُ هَذَا الْفَرْثَ بِدَمِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى يَضَعَ وَجْهَهُ سَاجِدًا فَيَضَعُهُ يَعْنِي عَلَى ظَهْرِهِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا، فَأَخَذَ الْفَرْثَ فَذَهَبَ بِهِ ثُمَّ أَمْهَلَهُ فَلَمَّا خَرَّ سَاجِدًا وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأُخْبِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَجَاءَتْ تَسْعَى فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ فِي قَلِيبٍ وَاحِدٍ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے ، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ۱؎ : تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے ، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں ، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے ، تو ان میں کا سب سے بدبخت ( انسان ) کھڑا ہوا ۲؎ ، اور اس نے اوجھڑی لی ، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا ، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی ، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا : «اللہم عليك بقريش» ” اے اللہ ! قریش کو ہلاک کر دے “ ، «اللہم عليك بقريش» ، ‏«اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط» ” اے اللہ ! ابوجہل بن ہشام ، شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے “ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سات ۳؎ لوگوں کا گن کر نام لیا ، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 308]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم کی تصریح کے مطابق وہ ابوجہل تھا۔ ۲؎: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے جیسا کہ مسند ابوداؤد طیالسی میں اس کی صراحت ہے۔ ۳؎: چار تو وہ ہیں جن کا ذکر خود حدیث میں آیا ہے اور باقی تین یہ ہیں: ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 69 (240)، والصلاة 109 (520)، والجھاد 98 (2934)، والجزیة 21 (3185)، ومناقب الأنصار 29 (3854)، صحیح مسلم/الجھاد 39 (1794)، (تحفة الأشراف 9484)، مسند احمد 1/ 393، 397، 417 (صحیح)
193: بَابُ : الْبُزَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ فَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا ، اس میں تھوکا ، اور اسے مل دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 309]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ تھوک پاک ہے، ورنہ آپ صلی الله علیہ وسلم ایسا نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 591)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (405)، 39 (417)، سنن ابی داود/الطھارة 143 (390)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 61 (1024) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، وَإِلَّا فَبَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے ، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے “ نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 310]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 13 (550)، سنن ابن ماجہ/إقامة 61 (1022)، (تحفة الأشراف 14669)، مسند احمد 2/250، 415 (صحیح)
194: بَابُ : بَدْءِ التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کی ابتداء کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، " فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ". فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے ، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے ، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے ، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا ، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں ؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے ، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے ، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے ، تو وہ کہنے لگے : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے ، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی ، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا ، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی ، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی ، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے آل ابوبکر ! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں ، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا ، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 311]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم 1 (334)، 2 (336)، وفضائل الصحابة 5 (3672)، 30 (3773)، وتفسیر النساء 10 (4583)، وتفسیر المائدہ 3 (4607)، وانکاح 126 (5250)، واللباس 58 (5882)، والحدود 39 (6844)، صحیح مسلم/الحیض 28 (367)، (تحفة الأشراف 17519)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 123 (317)، سنن ابن ماجہ/فیہ 90 (568)، موطا امام مالک/فیہ 23 (89)، مسند احمد 6/57، 179، 272، 273، سنن الدارمی/الطھارة 66/773 (صحیح)
195: بَابُ : التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں (دوران امامت) مقیم کے لیے تیمم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِ" وَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن یسار دونوں آئے یہاں تک کہ ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آئے ، تو آپ سے ایک آدمی ملا ، اور اس نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ آپ دیوار کے پاس آئے ، اور آپ نے اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھ پر مسح کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 312]
💡 وضاحت:
بئر جمل مدینہ میں ایک مشہور جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم 3 (337)، صحیح مسلم/الحیض 28 (369)، سنن ابی داود/الطھارة 124 (329)، (تحفة الأشراف 11885)، مسند احمد 4/169 (صحیح)
196: بَابُ : التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں (دوران اقامت) تیمم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، قال عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". وَسَلَمَةُ شَكَّ، لَا يَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ، ( کیا کروں ؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو ، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے ، تو ہم جنبی ہو گئے ، اور ہمیں پانی نہیں ملا ، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی ، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی ، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا ، پھر ان میں پھونک ماری ، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے ، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک - ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 313]
💡 وضاحت:
ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں اس لیے میں یہ بات نہیں کہہ سکتا تم اپنی ذمہ داری پر اسے بیان کرنا چاہو تو کرو، عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں کی رائے یہ ہے کہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں، ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام اور اکثر علماء اور مجتہدین کا قول ہے کہ تیمم محدث (جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو) اور جنبی (جسے احتلام ہوا ہو) دونوں کے لیے ہے، اس قول کی تائید کئی مشہور حدیثوں سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم 4 (338)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطھارة، سنن الترمذی/فیہ 110 (144)، سنن ابن ماجہ/فیہ 91 (569)، (تحفة الأشراف 10362)، مسند احمد 4/263، 265، 319، 320، سنن الدارمی/الطہارة66 (772) مختصرًا، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 317، 318، 319، 320 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قال: أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الْإِبِلِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا ، اور مجھے پانی نہیں ملا ، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 314]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 10368)، مسند احمد 4/263 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ناجیة“ لین الحدیث ہیں)
197: بَابُ : التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں تیمم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال: " عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُولَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُخْصَةَ التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَنْفُضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ".
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے ، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی ، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے ، اور کہنے لگے : تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے ، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی ، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے ، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا ، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 315]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا ان لوگوں نے اس وجہ سے کیا ہو گا کہ ممکن ہے پہلے یہی مشروع رہا ہو، پھر منسوخ ہو گیا ہو، یا ان لوگوں نے اپنے اجتہاد سے بغیر پوچھے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 123 (320)، (تحفة الأشراف 10357) مسند احمد 4/ 263، 264۔ (صحیح)
198: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ فِي كَيْفِيَّةِ التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کی کیفیت میں اختلاف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: " تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ، فَمَسَحْنَا بِوُجُوهِنَا وَأَيْدِينَا إِلَى الْمَنَاكِبِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا ، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 316]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة، 90 (566) مختصرًا، (تحفة الأشراف 10358)، مسند احمد 4/ 320، 321 (صحیح)
199: بَابُ : نَوْعٍ آخَرَ مِنَ التَّيَمُّمِ وَالنَّفْخِ فِي الْيَدَيْنِ
باب: تیمم کے ایک دوسرے طریقے کا اور دونوں ہاتھوں پر پھونک مارنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا؟ قال: نَعَمْ، أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ، وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ". فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ، قَالَ: وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : امیر المؤمنین ! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے ، ( تو ہم کیا کریں ؟ ) تو آپ نے کہا : رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا ، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد ہے ؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے ، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے ، کہنے لگے : ہاں ، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا : ” تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا ، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎ ، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عمار ! اللہ سے ڈرو ، تو انہوں نے کہا : امیر المؤمنین ! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 317]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الذراعين والصواب كفيه
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 313 (صحیح) (دون ذراعیہ، والصواب ”کفیہ‘‘ کما في الروایة التالیة)
200: بَابُ : نَوْعٍ آخَرَ مِنَ التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کا ایک اور طریقہ۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَتَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً".
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا ، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں ، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ کو یاد ہے ؟ جب ہم ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے ، اور میں جنبی ہو گیا تھا ، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا “ ، شعبہ نے ( تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے ، پھر ان میں پھونک ماری ، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 318]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)
201: بَابُ : نَوْعٍ آخَرَ مِنَ التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کا ایک اور طریقہ۔
مکمل مطالعہ →
أخبرنا إسماعيل بن مسعود أنبأنا خالد أنبأنا شعبة عن الحكم سمعت ذرا يحدث عن ابن أبزى عن أبيه قال وقد سمعه الحكم من ابن عبد الرحمن قال أجنب رجل فأتى عمر - رضى الله عنه - فقال إني أجنبت فلم أجد ماء ‏.‏ قال لا تصل ‏.‏ قال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فإني تمعكت فصليت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال ‏"‏ إنما كان يكفيك ‏"‏ ‏.‏ وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه ‏.‏ فقال عمر شيئا لا أدري ما هو ‏.‏ فقال إن شئت لا حدثته ‏.‏ وذكر شيئا في هذا الإسناد عن أبي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت ‏.‏
حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا ، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ( تو میں کیا کروں ؟ ) انہوں نے کہا : ( جب تک پانی نہ ملے ) نماز نہ پڑھو ، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے ، تو ہم جنبی ہو گئے تھے ، تو رہے آپ ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی ، اور رہا میں ، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا ، پھر نماز پڑھ لی ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا “ ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی ( گھٹنوں پر ) ایک مرتبہ ماری ، اور اس میں پھونک ماری ، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا ، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز ( سن رہا ہوں ) جو مجھے معلوم نہیں ، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں ؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے ، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 319]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)
202: بَابُ : نَوْعٍ آخَرَ
باب: تیمم کی ایک اور قسم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: مَا تَقُولُ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، فَشَكَّ سَلَمَةُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں ؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو ، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں ؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے ، تو ہم جنبی ہو گئے ، اور ہمیں پانی نہیں ملا ، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی ، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر میں نے نماز پڑھ لی ، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا “ ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے ، پھر ان میں پھونک ماری ، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا ۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا : مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں : سلمہ دونوں ہتھیلیوں ، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے ، تو منصور نے ان سے کہا : یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے ، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 320]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)
203: بَابُ : تَيَمُّمِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے تیمم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوْ لَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ، لِعُمَرَ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى كَفَّيْهِ وَوَجْهِهِ". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَ لَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟.
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، تو ابوموسیٰ نے کہا : ۱؎ آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت سے بھیجا ، تو میں جنبی ہو گیا ، اور مجھے پانی نہیں ملا ، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اس طرح کر لینا ہی کافی تھا “ ، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا ، پھر انہیں جھاڑا ، پھر آپ نے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) سے اپنی داہنی ( ہتھیلی ) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) پر مارا ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 321]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوموسیٰ کا کہنا تھا کہ تیمم کا حکم عام ہے، محدث اور جنبی دونوں کو شامل ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف محدث کے لیے خاص ہے اس پر ابوموسیٰ نے بطور اعتراض ان سے یہ بات کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم7 (346، 345)، 8 (347)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطھارة 123 (321)، مسند احمد 4/264، 265، 396، (تحفة الأشراف 10360) (صحیح)
204: بَابُ : التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ
باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا ، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں ! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ؟ “ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( پانی نہ ملنے پر ) ” مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 322]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم 6 (344)، 9 (348)، (تحفة الأشراف 10876)، مسند احمد 4/ 334 (صحیح)
205: بَابُ : الصَّلَوَاتِ بِتَيَمُّمٍ وَاحِدٍ
باب: ایک ہی تیمم سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے ، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 323]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 125 (332) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ 92 (124) مطولاً، (تحفة الأشراف 11971)، مسند احمد 5/155، 180 (صحیح)
206: بَابُ : فِيمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَلاَ الصَّعِيدَ
باب: پانی اور مٹی دونوں نہ ملے تو آدمی کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلَادَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ". قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا ، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ ( آرام کرنے کے لیے ) اتری تھیں ، ( اسی اثناء میں ) نماز کا وقت ہو گیا ، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں ( کہیں ) پانی ملا ، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی ، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی ، تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا ) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے ، اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 324]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة123 (317)، (تحفة الأشراف 17205) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى"، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا ، اس نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا ، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا ، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 325]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 4982)، ویاتی عندالمؤلف برقم 435 (صحیح)
← پچھلی کتاب #3 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #5 →