سنن النسائي حدیث نمبر: 268
Sunan an-Nasa'i 268
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
172: بَابُ : مُمَاسَةِ الْجُنُبِ وَمُجَالَسَتِهِ
باب: جنبی کو چھونے اور اس کے ساتھ بیٹھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس ( کے جسم ) پر ہاتھ پھیرتے ، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے ، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا ، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے ؟ “ میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 268]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنبی ہونے سے اس کا جسم اس طرح نجس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھو لے تو ہاتھ نجس ہو جائے، اس کی نجاست حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 3392)، مسند احمد 5/384، 402 (صحیح)