سنن النسائي حدیث نمبر: 289
Sunan an-Nasa'i 289
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
181: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ }
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ : ۲۲۲ ) ” لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، آپ فرما دیجئیے : وہ گندگی ہے “ نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں ، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں ، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 289]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2977)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644)، (تحفة الأشراف: 308)، مسند احمد 3/132، 246، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1093)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 8، باتم مما ھنا (برقم: 369) (صحیح)