صفة الوضوء
ابواب: وضو کا طریقہ
کتاب #3 • کل احادیث: 107
|
66: بَابُ : صِفَةِ الْوُضُوءِ - غَسْلُ الْكَفَّيْنِ
باب: دونوں ہتھیلی دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، حَتَّى رَدَّهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، قال ابْنُ عَوْنٍ: وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ ذَا مِنْ حَدِيثِ ذَا، أَنَّ الْمُغِيرَةَ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَرَعَ ظَهْرِي بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَرْضِ فَأَنَاخَ ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَذَهَبَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: " أَمَعَكَ مَاءٌ؟ وَمَعِي سَطِيحَةٌ لِي، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَذَكَرَ مِنْ نَاصِيَتِهِ شَيْئًا وَعِمَامَتِهِ شَيْئًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: لَا أَحْفَظُ كَمَا أُرِيدُ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَاجَتَكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ، فَجِئْنَا وَقَدْ أَمَّ النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ۱؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا ، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی ، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے ، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، پھر آپ ( واپس ) آئے ، اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ “ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی ، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا ، اور آپ پر انڈیلا ، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا ، چہرہ دھویا ، اور دونوں بازو دھونے چلے ، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے ( آستین چڑھ نہ سکی ) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا ، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے - مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا ، ابن عون کہتے ہیں : میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر فرمایا : ” اب تو اپنی ضرورت پوری کر لے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے حاجت نہیں ، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے ، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا ، چنانچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا ، اور جو حصہ فوت ہو گیا تھا اسے ( بعد میں ) پورا کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 82]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں مار سے تیز مار مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیٹھ میں چھڑی کونچی یہ بتانے کے لیے کہ ادھر مڑنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق لكن ليس عند خ ذكر الناصية والعمامة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 79 (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (بخاری کی روایت میں ’’ناصیہ‘‘ اور ’’عمامہ‘‘ کا ذکر نہیں ہے)
|
|
|
67: بَابُ : كَمْ تُغْسَلاَنِ
باب: دونوں ہتھیلیاں کتنی بار دھوئی جائیں؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا".
ابواوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ( اپنی ہتھیلیوں پر ) تین بار پانی ٹپکایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 83]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1740)، مسند احمد 4/9، 10، سنن الدارمی/الطہارة 26 (719) (صحیح الاسناد)
|
|
|
68: بَابُ : الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ
باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، قال: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي. ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا ، انہیں دھویا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، اور فرمایا : ” جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے ، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 84]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا خیال جو دنیاوی امور سے متعلق ہو اور نماز سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، اور اگر خود سے کوئی خیال آ جائے اور اسے وہ ذہن سے جھٹک دے تو یہ معاف ہو گا، ایسے شخص کو ان شاءاللہ یہ فضیلت حاصل ہو گی کیونکہ یہ اس کا فعل نہیں۔ ”گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“: اس سے مراد وہ صغائر ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 24 (159)، 28 (164)، الصوم 47 (1934)، صحیح مسلم/الطہارة3/226، سنن ابی داود/الطہارة 50 (106)، (تحفة الأشراف: 9794)، مسند احمد 1/59، 60، سنن الدارمی/الطہارة 27 (720)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 85، 116 (صحیح)
|
|
|
69: بَابُ : بِأَىِّ الْيَدَيْنِ يَتَمَضْمَضُ
باب: کس ہاتھ سے کلی کرے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ أبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا ، پھر انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی ، اور ناک صاف کی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، اور فرمایا : ” جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے ، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 85]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے داہنے ہاتھ سے پانی لے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)
|
|
|
70: بَابُ : اتِّخَاذِ الاِسْتِنْشَاقِ
باب: ناک میں پانی سڑکنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی سڑکے ( ناک میں پانی ڈالے ) ، پھر اسے جھاڑے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 86]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
حدیث سفیان عن أبی الزناد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، (تحفة الأشراف: 13689)، صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابی داود/الطہارة 55 (140)، موطا امام مالک/فیہ 1 (2)، (تحفة الأشراف: 13820)، مسند احمد 2/242، 463، وحدیث مالک عن أبی الزناد أخرجہ (صحیح)
|
|
|
71: بَابُ : الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ
باب: ناک میں پانی سڑکنے میں مبالغہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ: " أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے متعلق بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پوری طرح وضو کرو ، اور ناک میں پانی سڑکنے ( ڈالنے ) میں مبالغہ کرو ، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 87]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 55 (142، 143، 144)، الصوم 27 (2366)، سنن الترمذی/الصوم 69 (788)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (407)، 54 (448)، (وعندہ ’’وخلل بین الأصابع‘‘ بدل ’’وبالغ في الاستنشاق‘‘)، (تحفة الأشراف: 11172)، وھکذا عند المؤلف في باب 92 (114)، مسند احمد 4/32، 33، 211، سنن الدارمی/الطہارة 34 (732) (صحیح)
|
|
|
72: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک جھاڑنے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے ، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 88]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 25 (161)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (409)، (تحفة الأشراف: 13547)، موطا امام مالک/فیہ1 (3)، مسند احمد 2/236، 277، 308، 401، 518، سنن الدارمی/الطہارة 32 (730) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وضو کرو تو ناک جھاڑو ، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 89]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/313، 339، 340 (صحیح)
|
|
|
73: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِسْتِنْثَارِ عِنْدَ الاِسْتِيقَاظِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند سے اٹھنے پر ناک جھاڑنے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر وضو کرے تو ( پانی لے کر ) تین مرتبہ ناک جھاڑے ، کیونکہ شیطان اس کے پانسے میں رات گزارتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 90]
💡 وضاحت:
۱؎: اسے حقیقت پر محمول کرنا ہی راجح اور اولیٰ ہے، اس لیے کہ یہ جسم کے منافذ میں سے ایک ہے جس سے شیطان دل تک پہنچتا ہے، استنثار سے مقصود اس کے اثرات کا ازالہ ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں مجازی معنی مقصود ہے، وہ یہ کہ غبار اور رطوبت (جو ناک میں جمع ہو کر گندگی کا سبب بنتے ہیں) کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ پانسے گندگی جمع ہونے کی جگہ ہیں جو شیطان کے رات گزارنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ اسے صاف کر لے تاکہ اس کے اثرات زائل ہو جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3295)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (238)، (تحفة الأشراف: 14284)، مسند احمد 2/352 (صحیح)
|
|
|
74: بَابُ : بِأَىِّ الْيَدَيْنِ يَسْتَنْثِرُ
باب: کس ہاتھ سے ناک سے پانی جھاڑے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ" دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَفَعَلَ هَذَا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا ، پھر کہنے لگے : یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 91]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 50 (111، 112، 113)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، مسند احمد 1/ 110، 122، 123، 135، 139، 154، سنن الدارمی/الطہارة 31 (728)، وعبداللہ بن أحمد 1/ 113، 114، 115، 116، 123، 124، 125، 127، 141، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 92، 93، 94) (صحیح)
|
|
|
75: بَابُ : غَسْلِ الْوَجْهِ
باب: چہرہ دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا، " فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا.
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، آپ نماز پڑھ چکے تھے ، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا ، ہم لوگوں نے ( دل میں یا آپس میں ) کہا : وہ اسے کیا کریں گے ؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں ، ( ایسا کر کے ) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے ، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا ، اور ایک طشت لایا گیا ، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا ، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر چہرہ تین بار دھویا ، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا ، پھر دایاں پیر تین بار دھویا ، اور بایاں پیر تین بار دھویا ، پھر کہنے لگے : جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 92]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)
|
|
|
76: بَابُ : عَدَدِ غَسْلِ الْوَجْهِ
باب: چہرہ کتنی بار دھوئے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُهُ. وقَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے ، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا ، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا ، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی ، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا ، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا ، ( شعبہ - جو حدیث کے راوی ہیں - نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا ، پھر کہا : میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو ( گدی سے پیشانی تک ) واپس لائے یا نہیں ؟ ) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا : جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 93]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)
|
|
|
77: بَابُ : غَسْلِ الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھوں کے دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: شَهِدْتُ عَلِيًّا دَعَا بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا وُضُوءُهُ.
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی ، پھر وہ اس پر بیٹھے ، پھر ایک برتن میں پانی منگایا ، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے ، پھر کہا : جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 94]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)
|
|
|
78: بَابُ : صِفَةِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کا طریقہ۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قال: دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ، فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: نَاوِلْنِي، فَنَاوَلْتُهُ الْإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ، فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا". فَعَجِبْتُ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: لَا تَعْجَبْ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ، يَقُولُ: لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا.
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا ، تو میں نے اسے ( وضو کے پانی کو ) انہیں لا کر دیا ، آپ نے وضو کرنا شروع کیا ، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا ، پھر تین بار کلی کی اور تین بار ( پانی لے کر ) ناک جھاڑی ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا ، پھر بایاں ہاتھ ( بھی ) اسی طرح دھویا ، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا ، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پیر ( دھویا ) ، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے ، اور کہنے لگے : مجھے ( برتن ) دو ، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا ، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا ، تو مجھے تعجب ہوا ، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے : تعجب نہ کرو ، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا ، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 95]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10075)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (عقیب 117) (صحیح)
|
|
|
79: بَابُ : عَدَدِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ کو کتنی بار دھوئے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ". ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طُهُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ ( ابن قیس ) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں ( خوب ) صاف کیا ، پھر تین بار کلی کی ، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا ، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے ، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا ، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 96]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 50 (116) مختصرًا، سنن الترمذی/فیہ 37 (48)، (تحفة الأشراف: 10321)، مسند احمد 1/120، 125، 127، 142، 148، وعبداللہ بن أحمد 1/127، 156، 157، 158، 160، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 115) (صحیح)
|
|
|
80: بَابُ : حَدِّ الْغَسْلِ
باب: اعضائے وضو دھونے کی حد کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ، " فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور ( عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے ؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، پھر انہوں نے پانی منگایا ، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا ، انہیں دو دو بار دھویا ، پھر تین بار کلی کی ، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے ، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے ، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے ، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 97]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ”وہ“ کی ضمیر عبداللہ بن زید بن عاصم کی طرف لوٹ رہی ہے، لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہے کیونکہ عمرو بن یحییٰ کے دادا کا نام عمارہ ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ظاہر ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ ضمیر سائل (عمارہ یا عمرو) کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ مسئول کی طرف، صحیح بخاری میں اس کی صراحت موجود ہے کہ سائل یحییٰ نہیں بلکہ عمارہ یا عمرو ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، 46 (199)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن ابی داود/فیہ 47 (100)، 50 (118، 119)، سنن الترمذی/فیہ 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن ابن ماجہ/فیہ 43 (405)، 61 (471)، 51 (434)، (تحفة الأشراف: 5308)، موطا امام مالک/فیہ 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 42، سنن الدارمی/الطہارة 27 (700)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 98، 99 (صحیح)
|
|
|
81: بَابُ : صِفَةِ مَسْحِ الرَّأْسِ
باب: سر کے مسح کا طریقہ۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ هُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ، " فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( ان کے باپ عمارہ نے ) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا - ( وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے ؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا ، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ، پھر تین بار کلی کی ، اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا ، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے ، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا ، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے ، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا ، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 98]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5308) (صحیح)
|
|
|
82: بَابُ : عَدَدِ مَسْحِ الرَّأْسِ
باب: سر کا مسح کتنی بار کیا جائے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ( جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎ ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا ، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے ، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے ، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 99]
💡 وضاحت:
۱؎: «الذي أرى الندائ» یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ۲؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر «مرتین» (دو بار) سے کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، ضعيف، لشذوذه سفيان بن عيينة صرح بالسماع ولكنه شك فى هذا اللفظ ’’مسح برأسه مرتين‘‘ وهو شاذ. وللحديث شاهد ضعيف، فى سنن أبى داود (126) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 97، (تحفة الأشراف: 5308) (شاذ)
|
|
|
83: بَابُ : مَسْحِ الْمَرْأَةِ رَأْسَهَا
باب: عورت اپنے سر کا مسح کیسے کرے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُنَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَالِمٌ سَبَلَانُ، قال: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ، فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ" فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلَاثًا، وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخِّرِهِ، ثُمَّ أَمَرَّتْ يَديْهَا بِأُذُنَيْهَا، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ". قَالَ سَالِمٌ: كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَقُلْتُ: ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: أَعْتَقَنِي اللَّهُ، قَالَتْ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں ، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں ، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے ؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی ، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا ، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، اور تین بار بایاں ، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا ، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا ، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا ، سالم کہتے ہیں : میں بطور مکاتب ( غلام ) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں ، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں ، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا ، اور ان سے کہا : ام المؤمنین ! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے ، وہ بولیں : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے ، انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے ، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا ، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 100]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16093) (صحیح)
|
|
|
84: بَابُ : مَسْحِ الأُذُنَيْنِ
باب: کان کے مسح کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً". قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنُ عَجْلَانَ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ: وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی ، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎ ، اور اپنا چہرہ دھویا ، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے ، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 101]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 7 (140)، سنن ابی داود/الطہارة 52 (137) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة 28 (36) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطہارة 43 (403) مختصرًا، 52 (439) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5978)، مسند احمد 1/268، 365، 703، سنن الدارمی/الطہارة 29 (723، 724) مختصرًا (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 102) (صحیح)
|
|
|
85: بَابُ : مَسْحِ الأُذُنَيْنِ مَعَ الرَّأْسِ وَمَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّهُمَا مِنَ الرَّأْسِ
باب: سر کے ساتھ کان کے مسح کا بیان اور کان کے سر کا حصہ ہونے کی دلیل۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بِإِبْهَامَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا ، اور کلی کی ، اور ناک میں ڈالا ، پھر دوسرا چلو لیا ، اور اپنا چہرہ دھویا ، پھر ایک اور چلو لیا ، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، پھر ایک اور چلو لیا ، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے ، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا ، پھر ایک اور چلو لیا ، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا ، پھر ایک اور چلو لیا ، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 102]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم: 101، (تحفة الأشراف: 5978) (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجْتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ". قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں ، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں ، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں ، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں ، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں ، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے “ ۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 103]
💡 وضاحت:
”گناہ نکل جاتے ہیں“ اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں نہ کہ کبائر (گناہ کبیرہ) اس لیے کہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مصنف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ دونوں کان سر ہی کا حصہ ہیں کیونکہ سر پر مسح کرنے سے دونوں کانوں سے خطاؤں کا نکلنا اسی صورت میں صحیح ہو گا جب وہ سر ہی کا حصہ ہوں، اس باب میں مصنف کو «الأذنان من الرأس» والی مشہور روایت ذکر کرنی چاہیئے تھی لیکن مصنف نے اس سے صرف نظر کیا کیونکہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماد کو اس روایت کے سلسلہ میں شک ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف، نیز اس کی سند بھی قوی نہیں ہے، گرچہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ گئی ہے، مصنف کا اس روایت سے اعراض کر کے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کرنا ان کی دقت نظری کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 6 (282)، موطا امام مالک/فیہ 6 (30)، (تحفة الأشراف: 9677)، مسند احمد 4/348، 349 (صحیح)
|
|
|
86: بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
باب: پگڑی (عمامہ) پر مسح کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 104]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں لفظ «خمار» آیا ہے اس سے مراد پگڑی ہی ہے، اس لیے کہ «خمار» کے معنی ہیں جس سے سر ڈھانپا جائے اور مرد اپنا سر پگڑی ہی سے ڈھانپتا ہے لہٰذا یہاں پگڑی ہی مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 23 (275)، سنن الترمذی/فیہ 75 (101)، سنن ابن ماجہ/فیہ 89 (561)، (تحفة الأشراف: 2047)، مسند احمد 6/12، 13، 14، 15 (صحیح)
|
|
|
وأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، عَنْ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 105]
قال الشيخ الألباني:
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، مسند احمد 6/15، (تحفة الأشراف: 2032) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 106]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2043)، مسند احمد 6/13، 14، 15 (صحیح)
|
|
|
87: بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ مَعَ النَّاصِيَةِ
باب: پیشانی کے ساتھ پگڑی پر مسح کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ وَعِمَامَتَهُ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ"، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی ، پگڑی اور چمڑے کے موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 107]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (150، 151)، سنن الترمذی/فیہ 75 (100)، (تحفة الأشراف: 11494)، مسند احمد 4/255 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ: " أَمَعَكَ مَاءٌ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ) لشکر سے پیچھے ہو گئے ، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا ، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا : ” کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ “ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا ، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی ، تو آپ نے ( ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد ) اسے ( آستین کو ) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا ، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے ، اور اپنی پیشانی ، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 108]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 143 (1236)، (تحفة الأشراف: 11495)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (42)، مسند احمد 4/248، 251، سنن الدارمی/الصلاة 81 (1375) (صحیح)
|
|
|
88: بَابُ : كَيْفَ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
باب: پگڑی (عمامہ) پر مسح کے طریقے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: " خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا ، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے ، ( پہلی چیز یہ ہے کہ ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے ، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا ، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا ، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، ( دوسری چیز ) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے ، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا ، انہوں نے نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی ، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 109]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد مدلس وعنعن. وحديث مسلم (274/81) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11521) بھذا الإسناد، وأما بغیر ھذا الإسناد، ومطولا ومختصرا فقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوضوء 35 (182)، و 48 (203)، الصلاة 7 (363)، الجہاد 90 (2918)، المغازي 81 (4421)، اللباس 10 (5798)، 11 (5799)، صحیح مسلم/الطہارة 22، (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (149)، سنن الترمذی/فیہ 72 (97)، 75 (100)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (545)، موطا امام مالک/فیہ 8 (41)، مسند احمد 4/244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، 253، 255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740)، وتقدم عند المؤلف (بأرقام: 79، 82، 107، 108)، ویأتي عندہ (برقم: 125) (صحیح)
|
|
|
89: بَابُ : إِيجَابِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ
باب: وضو میں دونوں پاؤں کا دھونا واجب ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قال أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( وضو میں ) ” ایڑی دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 110]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو پاؤں کے مسح کو کافی سمجھتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 29 (165)، صحیح مسلم/الطہارة 9 (242)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 31 (41)، سنن ابن ماجہ/فیہ 55 (453)، (تحفة الأشراف: 14381)، مسند احمد 2/231، 282، 284، 389، 406، 409، 430، 471، 482، 497، 498، سنن الدارمی/الطہارة 35 (734) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَرَأَى أَعْقَابَهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا ، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں ( خشک ہونے کی وجہ سے ) چمک رہی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے ، وضو کامل طریقہ سے کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 111]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 9 (241)، سنن ابی داود/فیہ 46 (97)، سنن ابن ماجہ/فیہ 55 (450)، (تحفة الأشراف: 8936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 3 (60)، و30 (96)، الوضوء 27 (163)، مسند احمد 2/164، 193، 201، 205، 211، 226، سنن الدارمی/الطہارة 35 (733)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 142 (صحیح)
|
|
|
90: بَابُ : بِأَىِّ الرِّجْلَيْنِ يَبْدَأُ بِالْغَسْلِ
باب: کس پاؤں کو پہلے دھوئے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الأَشْعَثُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَكَرَتْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ". قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطٍ، يَقُولُ: يَحِبُّ التَّيَامُنَ، فَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ. ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں ، جوتا پہننے میں ، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے ۔ شعبہ کہتے ہیں : پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 112]
💡 وضاحت:
۱؎: شعبہ کے اس قول کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے اس روایت کو اشعث سے درج ذیل تینوں طرح سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الأطعمة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، و 77 (5926)، صحیح مسلم/الطہارة 19 (268)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4140)، سنن الترمذی/الصلاة316 (608)، 10 (80)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، (تحفة الأشراف: 17657)، مسند احمد 6/94، 130، 147، 187، 188، 202، 210، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 421، 5062، 5242 (صحیح)
|
|
|
91: بَابُ : غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِالْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ سے دونوں پیر دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ" فَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا".
عمارہ کہتے ہیں : مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا ، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 113]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «فقال على يديه» وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً «قال بيده» سے ”لیا“ «قال برجله» سے ”چلا“ اور «قالت له العينان» سے ”اشارہ کیا“ مراد لیتے ہیں، اسی طرح «قال على يديه من الإنائ» سے ”برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا“ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15648) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’عمارہ بن عثمان بن حنیف“ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
92: بَابُ : الأَمْرِ بِتَخْلِيلِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں میں خلال کرنے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو ، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 114]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 11172) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 87)
|
|
|
93: بَابُ : عَدَدِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ
باب: کتنی بار پاؤں دھویا جائے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا ، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر کہا : یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 115]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 96)، (تحفة الأشراف: 10321) (صحیح)
|
|
|
94: بَابُ : حَدِّ الْغَسْلِ
باب: دھونے کی حد یعنی ہاتھ اور پاؤں کہاں تک دھوئے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا ، اور وضو کیا ، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا ، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا ، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے ، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 116]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہاتھ کہنی تک اور پیر ٹخنے تک دھویا جائے، اور سر کے مسح کے علاوہ سارے اعضاء تین تین بار دھوئے جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 84، 85)، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)
|
|
|
95: بَابُ : الْوُضُوءِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا".
عبید بن جریج کہتے ہیں : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں ، اور اسی میں وضو کرتے ہیں ؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 117]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 30 (166) مطولاً، اللباس 37 (5851) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/الحج 21 (1772) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد 2/17، 66، 110، 138 (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 2761، 2953، 5245)
|
|
|
96: بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، فَقِيلَ لَهُ: أَتَمْسَحُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ، وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ، وَكَانَ إِسْلَامُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، تو ان سے کہا گیا : کیا آپ مسح کرتے ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 118]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (272)، سنن الترمذی/فیہ 70 (93)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (543)، (تحفة الأشراف: 3235)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ 59 (154)، مسند احمد 4/358، 361، 364، ویأتي عند المؤلف برقم: 775 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 119]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 48 (204، 205)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 89 (562)، (تحفة الأشراف: 10701)، مسند احمد 4/139، 179، و 5/287، 288، سنن الدارمی/الطہارة 38 (737)، بزیادة ’’العمامة‘‘ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا: مَا صَنَعَ؟ فَقَالَ بِلَالٌ: " ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ صَلَّى".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے ، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، پھر نکلے ، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر نماز ادا کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 120]
💡 وضاحت:
۱؎: اسواف حرم مدینہ کو کہتے ہیں۔ اور مدینہ میں ایک مقام کا نام بھی اسواف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2030) (حسن صحیح) (صحیح موارد الظمآن 151)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 121]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 48 (202)، (تحفة الأشراف: 3899)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة 84 (546)، مسند احمد 1/15 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 122]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح الاسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ" فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ بِهِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا ، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا ، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ، ( ” پھر ہمیں نماز پڑھائی “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 123]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد م لكن قوله بنا خطأ لأنه صلى الله عليه وسلم كان مقتديا بابن عوف في هذه القصة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 7 (363)، 25 (388) مختصراً، الجہاد 90 (2918)، اللباس 10 (5798)، صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 39 (389)، مسند احمد 4/ 247، 250، (تحفة الأشراف: 11528) (صحیح الاسناد) (لیکن ’’صلى بنا‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس قصہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے صلاة پڑھی تھی)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ" فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے ، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے ، اور آپ پر پانی ڈالا ، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے ، پھر وضو کیا ، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 124]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلم کی روایت میں «حتیٰ فرغ من حاجتہ» کے بجائے «حین فرغ من حاجتہ» ہے یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی روسے «حتی» کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح «حین» ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد «فتوضأ» کا جملہ بے موقع ہو گا۔ ۲؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 79)
|
|
|
--: بَابُ : الْمَسْحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
باب: موزوں اور جوتوں پر مسح کرنے کا بیان۔
|
|
|
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا وكيع أنبأنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين . قال أبو عبد الرحمن ما نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية والصحيح عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا : ” مغیرہ ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو ! تم چلو “ ، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا ، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا ، لوگ آگے نکل گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا ، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے ، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا ، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا ، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 125]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 61 (159)، سنن الترمذی/فیہ 74 (99)، سنن ابن ماجہ/فیہ 88 (559)، (تحفة الأشراف: 11534) مسند احمد 4/252 (صحیح)
|
|
|
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا وكيع أنبأنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين . قال أبو عبد الرحمن ما نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية والصحيح عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 125M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 61 (159)، سنن الترمذی/فیہ 74 (99)، سنن ابن ماجہ/فیہ 88 (559)، (تحفة الأشراف: 11534) مسند احمد 4/252 (صحیح)
|
|
|
98: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ
باب: مسافر کے لیے موزوں پر مسح کرنے کے وقت کی تحدید کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قال: " رَخَّصَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ، أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 126]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 71 (96) مطولاً، الزہد 50 (2387) ببعضہ، الدعوات 99 (3535، 3536) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطہارة 63 (478)، الفتن 32 (4070)، (تحفة الأشراف: 4952)، مسند احمد 4/ 239، 240، 241، وأعادہ المؤلف بأرقام: 158، 159بزیادة في متنہ (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَان الثَّورِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَزُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: سَأَلْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا وَلَا نَنْزِعَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ".
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں ، اور اسے تین دن تک پیشاب ، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 127]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن)
|
|
|
99: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ
باب: مقیم کے لیے موزوں پر مسح کے بارے میں وقت کی تحدید کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ يَعْنِي فِي الْمَسْحِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ۱؎ یعنی ( موزوں پر ) مسح کے سلسلے میں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 128]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مدت حدث کے وقت سے معتبر ہو گی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 24 (276)، سنن ابن ماجہ/فیہ 86 (552)، (تحفة الأشراف: 10126)، مسند احمد مسند احمد 1/96، 100، 113، 117، 120، 133، 134، 146، 149، 6/110، سنن الدارمی/الطہارة 42 (741) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو ، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات ، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 129]
💡 وضاحت:
۱؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر: ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
100: بَابُ : صِفَةِ الْوُضُوءِ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ
باب: وضو ٹوٹے بغیر تازہ وضو کس طرح کرے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قال: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ، " فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَمَسَحَ بِهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا". وَقَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی ، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے ، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا ، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا ، پھر اسے اپنے چہرہ ، اپنے دونوں بازو ، سر اور دونوں پیروں پر ملا ۱؎ ، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا ، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 130]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی باوضو ہو اور نماز کا وقت آ جائے، اور وہ ثواب کے لیے تازہ وضو کرنا چاہے تو تھوڑا سا پانی لے کر سارے اعضاء پر مل لے تو کافی ہو گا، پورا وضو کرنا اور ہر عضو کے لیے الگ الگ پانی لینا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة 16 (5615، 5616) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 13 (3718)، سنن الترمذی/الشمائل 32 (209)، (تحفة الأشراف: 10293)، مسند احمد 1/78، 120، 123، 139، 144، 153، 159 (صحیح)
|
|
|
101: بَابُ : الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَتَوَضَّأَ. قُلْتُ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ مَا لَمْ نُحْدِثْ، قَالَ: وَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا ، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا ، عمرو بن عامر کہتے ہیں : میں نے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۱؎ ! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا : اور آپ لوگ ؟ کہا : ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے ، نیز کہا : ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 131]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطہارہ 54 (214) مختصراً، سنن ابی داود/الطہارة 66 (171) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 44 (60) مختصراً، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (509) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1110)، مسند احمد 3/132، 133، 154، 194، 260، سنن الدارمی/الطہارة 46 (747) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيَّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ، تو لوگوں نے پوچھا : کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 132]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأطعمة 11 (3760)، سنن الترمذی/فیہ 40 (1847)، (تحفة الأشراف: 5793)، مسند احمد 1/282، 359 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎ ؟ فرمایا : ” عمر ! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 133]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ۲؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 25 (277) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 66 (172) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 45 (61)، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، مسند احمد 5/350، 351، 358، سنن الدارمی/الطہارة 3 (285) (صحیح)
|
|
|
102: بَابُ : النَّضْحِ
باب: پانی چھڑکنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ بِهَا هَكَذَا، وَوَصَفَ شُعْبَةُ نَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ"، فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَعْجَبَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ السُّنِّيِّ الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے ، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے ، ( خالد بن حارث کہتے ہیں ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی ۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 134]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 64 (166، 167، 168)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 58 (461)، (تحفة الأشراف: 3420)، مسند احمد 3/410، 4/69، 179، 212، 5/380، 408، 409 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ"، قَالَ أَحْمَدُ: فَنَضَحَ فَرْجَهُ.
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا ۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 135]
💡 وضاحت:
۱؎: ”حکم بن سفیان“ ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں «عن أبيه» ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے، (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۰) لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
103: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے بچے ہوئے پانی کو کام میں لانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ"، وَقَالَ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَنَعْتُ.
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا ( تو اپنے اعضاء ) تین تین بار ( دھوئے ) پھر وہ کھڑے ہوئے ، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا ، اور کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 136]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 34 (44) مختصرًا، وانظر حدیث رقم: 96، 115 (تحفة الأشراف: 10322) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی ( جو برتن میں بچا تھا ) نکالا ، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے ، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی ، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے ، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 137]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3566)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، (تحفة الأشراف: 11818)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 17 (376)، 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، 42 (5859)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449)، وأعادہ المؤلف برقم: 773 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي فَوَجَدَانِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ" فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے ، دونوں نے مجھے بیہوش پایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 138]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المرضی 5 (5651) مطولاً، الفرائض 1 (6723) مطولاً، الاعتصام 8 (7309)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 2 (2886) مطولاً، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، التفسیر 5 (3015)، سنن ابن ماجہ/الفرائض، الجنائز 1 (1436)، 5 (2728)، (تحفة الأشراف: 3028)، مسند احمد 3/307، سنن الدارمی/الطہارة 56 (760) (صحیح)
|
|
|
104: بَابُ : فَرْضِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کی فرضیت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".
ابوالملیح کے والد ( اسامہ بن عمیر ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا ، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 139]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہو گا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 31 (59)، سنن ابن ماجہ/فیہ 2 (271)، (تحفة الأشراف 132)، مسند احمد 5/74، 75، سنن الدارمی/الطہارة 21 (713)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 2525، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 2 (224)، عن ابن عمر، مسند احمد 2/20، 39، 51، 57 وغیرہما (صحیح)
|
|
|
105: بَابُ : الاِعْتَدَاءِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو میں حد سے بڑھنے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ" فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے ، پھر فرمایا : ” اسی طرح وضو کرنا ہے ، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا ، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 140]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 51 (135) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، مسند احمد 2/180 (حسن صحیح)
|
|
|
106: بَابُ : الأَمْرِ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: کامل وضو کرنے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنَّهُ" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ".
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے ، تو انہوں نے کہا : قسم ہے اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں ( یعنی بنی ہاشم کو ) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ ( پہلی یہ کہ ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں ، ( دوسری یہ کہ ) ہم صدقہ نہ کھائیں ، اور ( تیسری یہ کہ ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 141]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان باتوں کی بنی ہاشم کو زیادہ تاکید فرمائی، ان میں سے پہلی بات تو عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے، اور دوسری بات بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ خاص ہے، جب کہ تیسری بات یعنی گدھوں اور گھوڑیوں کا ملاپ عموماً مکروہ ہے کیونکہ اس سے گھوڑوں کی نسل کم ہو گی حالانکہ ان کی نسل بڑھانی چاہیئے کیونکہ گھوڑے آلات جہاد میں سے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 131 (808) مطولاً، سنن الترمذی/الجہاد 23 (1701)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 49 (426) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5791)، مسند احمد 1/225، 232، 234، 249، 255، ویأتي عند المؤلف برقم: 3611، بزیادة في أوّلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کامل وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 142]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 111 (صحیح)
|
|
|
107: بَابُ : الْفَضْلِ فِي ذَلِكَ
باب: کامل وضو کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے ، وہ ہے : ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا ، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا ، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا ، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 143]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا» (آل عمران: 200) میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے، بلکہ اس سے نفس اور بدن کو طاعات سے مربوط کرنا ہے، یا اس سے مراد افضل عمل ہے، یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے «رباط» کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 14 (251)، سنن الترمذی/فیہ 39 (51)، (تحفة الأشراف: 14087)، موطا امام مالک/ السفر 18 (55)، مسند احمد 2/277، 303 (صحیح)
|
|
|
108: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ
باب: مسنون وضو کرنے والے کا ثواب۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ"، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے ، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا ، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے ، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے ، تو عاصم کہنے لگے : ابوایوب ! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں ، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ؟ ، تو انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : ” جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے ، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو “ ، عقبہ ! ایسے ہی ہے نا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 144]
💡 وضاحت:
”غزوہ سلاسل“ یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۸ ھ میں ہوا تھا، یہ کوئی ایسا غزوہ تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ملک عراق کے اندر ہوا تھا۔ ۲؎: چاروں مسجدوں سے مراد مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قباء اور مسجد الاقصیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 193 (1396)، (تحفة الأشراف: 3462)، مسند احمد 5/423، سنن الدارمی/الطہارة 45 (744) (صحیح) (متابعات وشواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’سفیان بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قال: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا ، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 145]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 4 (231)، سنن ابن ماجہ/فیہ 57 (459)، (تحفة الأشراف: 9789)، مسند احمد 1/57، 66، 69، وانظر ایضا الأرقام: 84، 85، 857 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنَ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے ، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 146]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 24 (160)، صحیح مسلم/الطہارة 4 (227)، (تحفة الأشراف: 9793)، موطا امام مالک/فیہ 6 (29)، مسند احمد 1 (57) وانظر أیضا رقم: 84، 85 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ؟ قَالَ: " أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ". قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وضو کا ثواب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو کا ثواب یہ ہے کہ : جب تم وضو کرتے ہو ، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں ، پھر جب تم کلی کرتے ہو ، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو ، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو ، اور سر کا مسح کرتے ہو ، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں ، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے ( زمین ) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 147]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 10760)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/مسافرین 52 (832)، مسند احمد 4/112، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح)
|
|
|
109: بَابُ : الْقَوْلِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْوُضُوءِ
باب: وضو سے فراغت کے بعد کی دعا کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے وضو کیا ، اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں “ کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 148]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 6 (234)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 60 (470)، (تحفة الأشراف: 10609)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 41 (55)، بزیادة ’’اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین‘‘، وأعادہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 34 (84)، سنن ابی داود/فیہ 65 (169)، م (4/146، 151، 153) من مسند عقبة بن عامر، سنن الدارمی/الطہارة 43 (743) مطولاً (صحیح)
|
|
|
110: بَابُ : حِلْيَةِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے زیور کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قال: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ فَقَالَ لِي: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا ، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے ، تو میں نے کہا : ابوہریرہ ! یہ کون سا وضو ہے ؟ انہوں نے مجھ سے کہا : اے بنی فروخ ! تم لوگ یہاں ہو ! ۱؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ۲؎ ، میں نے اپنے خلیل ( گہرے دوست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں ” مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 149]
💡 وضاحت:
۱؎: فروخ ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کا نام تھا جو اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کے بعد پیدا ہوئے، ان کی نسل بہت بڑھی، کہا جاتا ہے کہ عجمی انہیں کی اولاد میں سے ہیں، قاضی عیاض کہتے ہیں، فروخ سے ابوہریرہ کی مراد موالی ہیں اور یہ خطاب ابوحازم کی طرف ہے۔ ۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ عوام کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اندیشہ ہے کہ وہ اسے فرض سمجھنے لگ جائیں، اس لیے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی کہ اگر میں جانتا کہ تم لوگ یہاں موجود ہو تو اس طرح وضو نہ کرتا۔ ۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز مومن کے اعضاء وضو میں زیور پہنائے جائیں گے، تو جو کامل وضو کرے گا اس کے زیور بھی کامل ہوں گے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کو زیور اس حد تک پہنایا جائے گا جہاں تک وضو میں پانی پہنچتا ہے یعنی ہاتھوں کا زیور کہنیوں تک، پاؤں کا ٹخنوں تک، اور منہ کا کانوں تک ہو گا۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 13 (250)، (تحفة الأشراف: 13398)، مسند احمد 2/371 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ” مومن قوم کی بستی والو ! تم پر سلامتی ہو ، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں “ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے ، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے ، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 150]
💡 وضاحت:
۱؎: پیش روسے مراد ”میر سامان“ ہے جو قافلے میں سب سے پہلے آگے جا کر قافلے کے ٹھہرنے اور ان کی دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے، یہ امت محمدیہ کا شرف ہے کہ ان کے پیش رو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 12 (249) مطولاً، سنن ابی داود/الجنائز 83 (3237)، سنن ابن ماجہ/ الزھد 36 (4306)، (تحفة الأشراف: 14086)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 6 (28)، مسند احمد 2/300، 375، 408 (صحیح)
|
|
|
111: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ أَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
باب: اچھی طرح وضو کرنے پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اچھی طرح وضو کرے ، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے ، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 151]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 6 (234) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 65 (169) مطولاً، 162 (906)، (تحفة الأشراف: 9914)، مسند احمد 4/146، 151، 153 (صحیح)
|
|
|
112: بَابُ : مَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ وَمَا لاَ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ مِنَ الْمَذْىِ
باب: وضو کو توڑ دینے اور نہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، مذی سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ: " كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے عقد نکاح میں تھیں ، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی ، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا : تم پوچھو ، تو اس نے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں وضو ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 152]
💡 وضاحت:
۱؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، (تحفة الأشراف: 10178)، مسند احمد 1/125، 129 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا : جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے ، اور مذی نکل آئے ، اور جماع نہ کرے تو ( اس پر کیا ہے ؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں ، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں ، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں ، اور نماز کی طرح وضو کر لیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 153]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (208) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 83 (208، 209)، (تحفة الأشراف: 10241)، مسند احمد 1/124 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال: " كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ".
عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی ، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ ( اس بارے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں ، ( چنانچہ انہوں نے پوچھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں وضو کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 154]
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر عمار
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10156) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں سوال کریں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں ، اور وضو کر لیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 155]
قال الشيخ الألباني:
منكر والمحفوظ أن المأمور المقداد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3550) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے، کما تقدم)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے ، تو اس پر کیا واجب ہے ؟ ( وضو یا غسل ) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں ، اس لیے میں ( خود ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (207) ابن ماجه (505) وانظر الحديث الآتي (441) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 83 (207)، سنن ابن ماجہ/فیہ 70 (505)، (تحفة الأشراف: 11544)، موطا امام مالک/الطہارة 13 (53)، مسند احمد 6/4، 5 ویأتی عند المؤلف برقم: 441 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی ، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں وضو واجب ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 157]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 51 (132)، الوضوء 34 (178)، صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف: 10264)، مسند احمد 1/80، 82، 103، 124، 140، ولہ طرق أخری عن علی۔ انظر الأرقام: 436-441 (صحیح)
|
|
|
113: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پاخانہ اور پیشاب سے وضو کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا ، تو وہ نکلے ، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : علم حاصل کرنے آیا ہوں ، انہوں نے کہا : طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ، پھر پوچھا : کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : دونوں موزوں کے متعلق کہا : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں ، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ، لیکن پاخانہ ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 158]
💡 وضاحت:
یعنی اگر جنابت لاحق ہو جائے تو اتارنے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)
|
|
|
114: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ
باب: پاخانہ سے وضو ٹوٹنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم ( موزوں کو ) تین دن تک نہ اتاریں ، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ، ۱؎ لیکن پاخانہ ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 159]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)
|
|
|
115: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
باب: ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قال: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی ( بسا اوقات ) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک بو نہ پا لے ، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 160]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے تب نماز توڑے اور جا کر وضو کرے، محض وہم پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 4 (137) و 34 (177) مختصرًا، البیوع 5 (2056)، صحیح مسلم/الحیض26 (361)، سنن ابی داود/الطہارة 68 (176)، سنن ابن ماجہ/فیہ 74 (513)، (تحفة الأشراف: 5296)، مسند احمد 4/39، 40 (صحیح)
|
|
|
116: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 161]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی (ممانعت) اکثر علماء کے نزدیک تنزیہی ہے اور بعض کے نزدیک تحریمی ہے، امام احمد سے منقول ہے کہ اگر رات کو سو کر اٹھے تو کراہت تحریمی ہے اور دن کو سو کر اٹھے تو کراہت تنزیہی، «في الإنائ» کی قید سے معلوم ہوا کہ نہر، بڑا حوض اور تالاب وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ (الگ) ہیں اور ان میں ہاتھ داخل کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1، (تحفة الأشراف: 15293) (صحیح)
|
|
|
117: بَابُ : النُّعَاسِ
باب: اونگھ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ لَعَلَّهُ يَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لَا يَدْرِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کر لے ، ایسا نہ ہو کہ وہ ( اونگھ میں ) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 162]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مصنف نے یہ اخذ کیا ہے کہ اونگھ ناقض وضو نہیں ہے کیونکہ اگر ناقض وضو ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس ڈر سے منع نہ فرماتے کہ وہ اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے کہ اونگھنے کی حالت میں نماز درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، سنن ابی داود/الصلاة 308 (1310)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1370)، موطا امام مالک/صلاة الیل 1 (3)، مسند احمد 6/56، 205، سنن الدارمی/الصلاة 107 (1423) (صحیح)
|
|
|
118: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا ، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے ، تو مروان نے کہا : ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے ، اس پر عروہ نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، تو مروان نے کہا : بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ ” جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 163]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 70 (181)، سنن الترمذی/فیہ 61 (82) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/63 (479) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 15785)، موطا امام مالک/فیہ 15 (58)، مسند احمد 6/406، 407، سنن الدارمی/الطہارة 50 (751، 752)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 163، 445- 448 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ". قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا ، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے ، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا : جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے ، تو مروان نے کہا : مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور عضو تناسل چھونے سے ( بھی ) وضو کیا جائے گا “ ، عروہ کہتے ہیں : میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا ، چنانچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 164]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 15785) (صحیح)
|
|
|
119: بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ ذَلِكَ
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي رَجُلٍ مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْكَ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ؟".
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی شکل میں نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص جو دیہاتی لگ رہا تھا آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو نماز میں اپنا عضو تناسل چھو لے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا یا حصہ ہی تو ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 165]
💡 وضاحت:
۱؎: بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا اور طلق بن علی (رضی اللہ عنہم) دونوں کی روایتیں بظاہر متعارض ہیں لیکن بسرۃ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح حاصل ہے، اس لیے کہ وہ اثبت اور اصح ہے اور طلق بن علی رضی اللہ عنہم کی روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ پہلے کی ہے اور بسرۃ رضی اللہ عنہا کی روایت بعد کی ہے جیسا کہ ابن حبان اور حازمی نے اس کی تصریح کی ہے، دونوں کے اندر اس طرح بھی تطبیق دی جاتی ہے کہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بغیر کسی پردہ اور آڑ کے چھونے سے متعلق ہے، اور طلق رضی اللہ عنہم کی حدیث کپڑے وغیرہ کے اوپر سے چھونے سے متعلق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 71 (182، 183)، سنن الترمذی/فیہ 62 (85) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ 64، 483، (تحفة الأشراف: 5023)، مسند احمد 4/22، 23 (صحیح)
|
|
|
120: بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ مِنْ غَيْرِ شَهْوَةٍ
باب: بغیر شہوت بیوی کو چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے جنازے کی طرح چوڑان میں لیٹی رہتی تھی ، یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے کچوکے لگاتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 166]
💡 وضاحت:
۱؎: مصنف نے باب پر حدیث میں وارد لفظ «مسني برجله» سے استدلال کیا ہے کیونکہ یہ بغیر شہوت کے چھونا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17532)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 108 (519)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 17 (744)، سنن ابی داود/فیہ 112 (712)، مسند احمد 6/44، 55، 259، سنن الدارمی/الصلاة 127 (1453) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے ، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے ، تو میں اسے سمیٹ لیتی ، پھر آپ سجدہ کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 167]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 108 (519) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 112 (712)، (تحفة الأشراف: 17537)، مسند احمد 2/44، 54 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، وَالْبُيُوتُ يَوْمِئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے ، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی ، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی ، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 168]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 22 (382)، 104 (513)، العمل في الصلاة 10 (1209)، صحیح مسلم/الصلاة 51 (512)، سنن ابی داود/فیہ 112 (714)، (تحفة الأشراف: 17712)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (2)، مسند احمد 6/148، 225، 255 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا ، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی ، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا ، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے ، کہہ رہے تھے : «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے ، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے ، میں تیری شمار کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 169]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن ابی داود/فیہ 152 (879)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3841)، (تحفة الأشراف: 17807)، موطا امام مالک/القرآن 8 (31)، (وفیہ انقطاع)، مسند احمد 6/58، 201، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1101، 1131، 5536 (صحیح)
|
|
|
121: بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ
باب: بوسہ سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا وَحَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تُصَليِّ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ لَا شَيْءَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے ، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے ، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انہوں نے عروہ سے ، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ، یحییٰ القطان کہتے ہیں : حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور حبیب کی «تصلى وإن قطر الدم على الحصير» ” مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے “ والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ۲؎ ، ( یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 170]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شہوت کے ساتھ عورت کو چھونے سے بھی وضو نہیں ہے کیونکہ اس کا بوسہ عام طور سے شہوت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ۲؎: اس کی وجہ حبیب اور عروہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر متابعات وشواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (178) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
حدیث إبراہیم بن یزید الیتمی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 69 (178)، صحیح مسلم/210، (تحفة الأشراف: 15915)، وحدیث عروة المزنی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 69 (179)، سنن الترمذی/الطہارة 63 (86)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 69 (502)، مسند احمد 6/210، (تحفة الأشراف: 17371) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ابراہیم تیمی کا سماع ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے)
|
|
|
122: بَابُ : الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 171]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث منسوخ ہے، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۸۲ - ۱۸۵۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 23 (352)، (تحفة الأشراف: 12182، 3553)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 76 (194)، سنن الترمذی/الطہارة 58 (79)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 65 (485)، مسند احمد 2/265، 271، 427، 458، 479، 469، 478 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 172]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 171، (تحفة الأشراف: 13553) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، قال: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأْتُ مِنْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں ، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 173]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 171 (تحفة الأشراف: 13553) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَلَالًا لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْهُ، فَجَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَصًى، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَدَدَ هَذَا الْحَصَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں ، محض اس لیے کہ وہ آگ سے پکا ہوا ہے ؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا : ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 174]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، مطلب بن عبد الله بن حنطب مدلس ولم يصرح بالسماع. وروي أحمد (1/ 366 ح 3464) بسند صحيح عن سليمان بن يسار أنه سمع ابن عباس ورأي أبا هريرة يتوضأ فقال: أتدري مم أتوضأ؟ قال: لا،قال: أتوضأ من أثوار أقط أكلتها.قال ابن عباس: ما أبالي مما توضأت،أشهد لرأيت رسول اللّٰه ﷺ أكل كتف لحم ثم قام إلى الصلاة و ما توضأ. وانظر الحديث الآتي (184) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 14614)، مسند احمد 2/529 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 175]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 13584) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال مُحَمَّدٌ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ سے پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 176]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3464) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 177]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3781)، مسند احمد 4/30 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 178]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3778)، مسند احمد 4/28، 30 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 179]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 23 (351)، (تحفة الأشراف: 3704)، مسند احمد 5/184، 188، 189، 190، 191، 192، سنن الدارمی/الطہارة 51 (753) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أُخْتِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نے خبر دی ہے کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا ، پھر کہا : بھانجے ! وضو کر لو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 180]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
الطہارة 76 (195)، (تحفة الأشراف: 15871)، مسند احمد 6/326، 327، 328، 426، 427 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لَهُ وَشَرِبَ سَوِيقًا: يَا ابْنَ أُخْتِي تَوَضَّأْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا ( جب انہوں نے ستو پیا ) بھانجے ! وضو کر لو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 181]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15871) (صحیح)
|
|
|
123: بَابُ : تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفًا، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بکری کی ) دست کھائی ، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے ، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 182]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (491)، (تحفة الأشراف: 18269)، مسند احمد 6/292، ولہ غیر ھذہ الطریق عن أم سلمة، راجع مسند احمد 6/306، 317، 319، 323 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ". وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا" قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ جماع سے ) صبح کرتے ، پھر روزہ رکھتے ، ( محمد بن یوسف کہتے ہیں : ) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ ( یہ بھی ) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو ( گوشت کا ٹکڑا ) پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 183]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 18160)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 13 (1109)، مسند احمد 6/306 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 184]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 5671)، مسند احمد 1/366، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطہارة 50 (207)، الأطعمة 18 (5404)، صحیح مسلم/الحیض 24 (354)، سنن ابی داود/الطہارة 75 (187)، مسند احمد (1/226، 227، 241، 244، 253، 254، 258، 264، 267، 272، 273، 281، 336، 351، 352، 356، 361، 363، 365، 366) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ" آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں ( آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے ) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 185]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 75 (192)، (تحفة الأشراف: 3047)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، مسند احمد 3/304، 307، 322، 363، 375، 381، بغیر ھذا اللفظ (صحیح)
|
|
|
124: بَابُ : الْمَضْمَضَةِ مِنَ السَّوِيقِ
باب: ستو کھا کر کلی کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ" صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا ( جو خیبر سے قریب ہے ) میں پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی ، پھر توشوں کو طلب کیا ، تو صرف ستو لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، تو اسے گھولا گیا ، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا ، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے کلی کی اور ہم نے ( بھی ) کلی کی ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 186]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجھاد 123 (2981)، المغازي 38 (4195)، الأطعمة 7 (5384)، 9 (5390)، 51 (5455)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (492)، (تحفة الأشراف: 4813)، موطا امام مالک/فیہ 5 (20)، مسند احمد 3/462، 488 (صحیح)
|
|
|
125: بَابُ : الْمَضْمَضَةِ مِنَ اللَّبَنِ
باب: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا ، پھر پانی مانگا اور کلی کی ، پھر فرمایا : ” اس میں چکنائی ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 52 (211)، الأشربة 12 (5609)، صحیح مسلم/الحیض 24 (358)، سنن ابی داود/الطھارة 77 (196)، سنن الترمذی/الطھارة 66 (89)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 68 (498)، (تحفة الأشراف: 5833)، مسند احمد 1/223، 227، 329، 337، 373 (صحیح)
|
|