سنن النسائي حدیث نمبر: 91
Sunan an-Nasa'i 91
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
74: بَابُ : بِأَىِّ الْيَدَيْنِ يَسْتَنْثِرُ
باب: کس ہاتھ سے ناک سے پانی جھاڑے؟
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ" دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَفَعَلَ هَذَا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا ، پھر کہنے لگے : یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 91]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 50 (111، 112، 113)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، مسند احمد 1/ 110، 122، 123، 135، 139، 154، سنن الدارمی/الطہارة 31 (728)، وعبداللہ بن أحمد 1/ 113، 114، 115، 116، 123، 124، 125، 127، 141، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 92، 93، 94) (صحیح)