📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: وضو کا طریقہ (صفة الوضوء) 🏷️ باب: باب: وضو کے زیور کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 150 Sunan an-Nasa'i 150
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
110: بَابُ : حِلْيَةِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے زیور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ” مومن قوم کی بستی والو ! تم پر سلامتی ہو ، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں “ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے ، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے ، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 150]
💡 وضاحت:
۱؎: پیش روسے مراد میر سامان ہے جو قافلے میں سب سے پہلے آگے جا کر قافلے کے ٹھہرنے اور ان کی دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے، یہ امت محمدیہ کا شرف ہے کہ ان کے پیش رو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 12 (249) مطولاً، سنن ابی داود/الجنائز 83 (3237)، سنن ابن ماجہ/ الزھد 36 (4306)، (تحفة الأشراف: 14086)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 6 (28)، مسند احمد 2/300، 375، 408 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #150
148 149 150 151 152

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#149 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ ...
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا ، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ