سنن النسائي حدیث نمبر: 152
Sunan an-Nasa'i 152
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے عقد نکاح میں تھیں ، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی ، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا : تم پوچھو ، تو اس نے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں وضو ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 152]
💡 وضاحت:
۱؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، (تحفة الأشراف: 10178)، مسند احمد 1/125، 129 (حسن صحیح)