سنن النسائي حدیث نمبر: 117
Sunan an-Nasa'i 117
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
95: بَابُ : الْوُضُوءِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا".
عبید بن جریج کہتے ہیں : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں ، اور اسی میں وضو کرتے ہیں ؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 117]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 30 (166) مطولاً، اللباس 37 (5851) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/الحج 21 (1772) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد 2/17، 66، 110، 138 (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 2761، 2953، 5245)