سنن النسائي حدیث نمبر: 141
Sunan an-Nasa'i 141
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
106: بَابُ : الأَمْرِ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: کامل وضو کرنے کا حکم۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنَّهُ" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ".
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے ، تو انہوں نے کہا : قسم ہے اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں ( یعنی بنی ہاشم کو ) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ ( پہلی یہ کہ ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں ، ( دوسری یہ کہ ) ہم صدقہ نہ کھائیں ، اور ( تیسری یہ کہ ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 141]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان باتوں کی بنی ہاشم کو زیادہ تاکید فرمائی، ان میں سے پہلی بات تو عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے، اور دوسری بات بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ خاص ہے، جب کہ تیسری بات یعنی گدھوں اور گھوڑیوں کا ملاپ عموماً مکروہ ہے کیونکہ اس سے گھوڑوں کی نسل کم ہو گی حالانکہ ان کی نسل بڑھانی چاہیئے کیونکہ گھوڑے آلات جہاد میں سے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 131 (808) مطولاً، سنن الترمذی/الجہاد 23 (1701)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 49 (426) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5791)، مسند احمد 1/225، 232، 234، 249، 255، ویأتي عند المؤلف برقم: 3611، بزیادة في أوّلہ (صحیح)