سنن النسائي حدیث نمبر: 140
Sunan an-Nasa'i 140
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
105: بَابُ : الاِعْتَدَاءِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو میں حد سے بڑھنے کی ممانعت۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ" فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے ، پھر فرمایا : ” اسی طرح وضو کرنا ہے ، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا ، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 140]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 51 (135) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، مسند احمد 2/180 (حسن صحیح)