سنن النسائي حدیث نمبر: 138
Sunan an-Nasa'i 138
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
103: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے بچے ہوئے پانی کو کام میں لانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي فَوَجَدَانِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ" فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے ، دونوں نے مجھے بیہوش پایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 138]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المرضی 5 (5651) مطولاً، الفرائض 1 (6723) مطولاً، الاعتصام 8 (7309)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 2 (2886) مطولاً، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، التفسیر 5 (3015)، سنن ابن ماجہ/الفرائض، الجنائز 1 (1436)، 5 (2728)، (تحفة الأشراف: 3028)، مسند احمد 3/307، سنن الدارمی/الطہارة 56 (760) (صحیح)