سنن النسائي حدیث نمبر: 137
Sunan an-Nasa'i 137
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
103: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِفَضْلِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے بچے ہوئے پانی کو کام میں لانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی ( جو برتن میں بچا تھا ) نکالا ، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے ، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی ، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے ، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 137]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3566)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، (تحفة الأشراف: 11818)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 17 (376)، 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، 42 (5859)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449)، وأعادہ المؤلف برقم: 773 (صحیح)