سنن النسائي حدیث نمبر: 133
Sunan an-Nasa'i 133
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
101: بَابُ : الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎ ؟ فرمایا : ” عمر ! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 133]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ۲؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 25 (277) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 66 (172) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 45 (61)، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، مسند احمد 5/350، 351، 358، سنن الدارمی/الطہارة 3 (285) (صحیح)