سنن النسائي حدیث نمبر: 129
Sunan an-Nasa'i 129
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
99: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ
باب: مقیم کے لیے موزوں پر مسح کے بارے میں وقت کی تحدید کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو ، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات ، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 129]
💡 وضاحت:
۱؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر: ما قبلہ (صحیح)