ذكر الفطرة
ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
کتاب #2 • کل احادیث: 73
|
9: بَابُ : ذِكْرِ الْفِطْرَةِ - الاِخْتِتَانُ
باب: ختنہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الِاخْتِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” فطری ( پیدائشی ) سنتیں پانچ ہیں ، ختنہ کرنا ، زیر ناف کے بال صاف کرنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا ، اور بغل کے بال اکھیڑنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 9]
💡 وضاحت:
فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام علیہم السلام نے پسند فرمایا ہے اور تمام قدیم شریعتیں اس پر متفق ہیں، گویا کہ یہ پیدائشی معاملہ ہے۔ یہاں «حصر» یعنی ان فطری چیزوں کو ان پانچ چیزوں میں محصور کر دینا مراد نہیں ہے، بعض روایتوں میں «عشر من الفطرة» کے الفاظ وارد ہیں۔ (یعنی دس چیزیں فطری امور میں سے ہیں)۔ ایک حدیث کی رو سے چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔ مونچھ کترنا، اس سے مراد لب (ہونٹ) کے بڑھے ہوئے بالوں کا کاٹنا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑی اور لمبی مونچھیں ناپسندیدہ ہیں۔ (یعنی فطری چیز کو ان پانچ چیزوں میں محصور کر دینا)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/اللباس 63 (5889)، 64 (5891)، الاستئذان 51 (6297)، صحیح مسلم/الطہارة 16 (257)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4198)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2756)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (292)، (تحفة الأشراف: 13343)، موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 3 موقوفا (4)، مسند احمد 2/229، 24، 284، 411، 489 (صحیح)
|
|
|
10: بَابُ : تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ
باب: ناخن کاٹنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھ کترنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناخن تراشنا ، زیر ناف کے بال صاف کرنا ، اور ختنہ کرنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 10]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 14 (2756)، مسند احمد 2/229، 283، 410، 489، (تحفة الأشراف: 13286)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: (5227) (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : نَتْفِ الإِبْطِ
باب: بغل کے بال اکھیڑنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : ختنہ کرنا ، زیر ناف کے بال مونڈنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناخن تراشنا ، اور مونچھ کے بال لینا ( یعنی کاٹنا ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 11]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 63 (5889)، 64 (5891)، الإستئذان 51 (6297)، صحیح مسلم/الطہارة 16 (257)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4198)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (292)، مسند احمد 2/239، (تحفة الأشراف: 13126) (صحیح)
|
|
|
12: بَابُ : حَلْقِ الْعَانَةِ
باب: زیر ناف کے بال مونڈنا۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ قَصُّ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناخن تراشنا ، مونچھ کے بال لینا ، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری ( پیدائشی ) سنتیں ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 12]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/اللباس 63 (5888)، 64 (5890)، (تحفة الأشراف: 7654)، مسند احمد 2/118 (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : قَصِّ الشَّارِبِ
باب: مونچھ کترنا۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 13]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہماری روش پر چلنے والوں میں سے نہیں، یہ تعبیر تغلیظ و تشدید کے لیے ہے، اسلام سے خروج مراد نہیں اس لیے اس میں غفلت و سستی نہ کریں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/ الأدب 16 (2761)، (تحفة الأشراف: 3660)، (مسند احمد 4/366، 368) یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے (5050) (صحیح)
|
|
|
14: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي ذَلِكَ
باب: ان چیزوں کو چھوڑے رکھنے کی مدت کی تحدید۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا". وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے ، ناخن تراشنے ، زیر ناف کے بال صاف کرنے ، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎ ، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 14]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 16 (258)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4200)، سنن الترمذی/الأدب 15 (2758)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (295)، (تحفة الأشراف: 1070)، مسند احمد 3/122، 203، 256 (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : إِحْفَاءِ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى
باب: مونچھ کو خوب کترنے اور داڑھیوں کو چھوڑ دینے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مونچھوں کو خوب کترو ۱؎ ، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 15]
💡 وضاحت:
۱؎: «أحفو» کے معنی کاٹنے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ ۲؎: داڑھی کے لیے صحیحین کی روایتوں میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: «اعفوا، أو فوا، أرخو» اور «وفروا» ان سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی: داڑھی کو اپنے حال پر چھوڑے رکھو، البتہ ابن عمر اور ابوہریرہ وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک مٹھی کے بعد زائد بال کو کاٹا کرتے تھے، جب کہ یہی لوگ «إعفاء اللحیۃ» کے راوی بھی ہیں، گویا کہ ان کا یہ فعل لفظ «إعفائ» کی تشریح ہے، اسی لیے ایک مٹھی کی مقدار بہت سے علماء کے نزدیک فرض ہے اس لیے ایک مٹھی سے کم کی داڑھی خلاف سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 16 (259)، (تحفة الأشراف: 8177)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 64 (5892)، 65 (5893)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4199)، سنن الترمذی/الأدب 18 (2763)، ط: الشعر 1 (1)، مسند احمد 2/16، 52، 157 یہ حدیث مکرر، دیکھئے: 5048، 5228)، ولفظہ عند أبي داود ومالک: أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحی (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : الإِبْعَادِ عِنْدَ إِرَادَةِ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے لیے دور جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلَاءِ، وَكَانَ" إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ".
عبدالرحمٰن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا ، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 16]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ لوگ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 22 (334)، (تحفة الأشراف: 9733)، مسند احمد 3/443 و 4/224، 237 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ. قَالَ: فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ". قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ: هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے ، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( تو واپس آ کر ) آپ نے فرمایا : ” میرے لیے وضو کا پانی لاؤ “ ، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا ، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد : ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 17]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/فیہ 16 (20)، سنن ابن ماجہ/فیہ 22 (331)، (تحفة الأشراف: 11540)، مسند احمد 3/443، 4/224، 237، 248، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
باب: قضائے حاجت کے لیے دور نہ جانے کی رخصت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَدَعَانِي وَكُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ ، میں آپ سے دور ہٹ گیا ، تو آپ نے مجھے بلایا ۲؎ ، ( تو جا کر ) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) ہو گیا یہاں تک کہ آپ ( پیشاب سے ) فارغ ہو گئے ، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 18]
💡 وضاحت:
۱؎: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی علماء نے متعدد توجیہیں بیان کیں ہیں، سب سے مناسب توجیہ یہ ہے کہ اسے بیان جواز پر محمول کیا جائے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ۲؎: تاکہ میں آڑ بن جاؤں دوسرے لوگ آپ کو اس حالت میں نہ دیکھ سکیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 61 (224)، 26 (225) مختصراً، المظالم 27 (2471)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (273)، سنن ابی داود/فیہ 12 (23)، سنن الترمذی/فیہ 9 (13)، سنن ابن ماجہ/فیہ 13 (305)، 84 (544)، (تحفة الأشراف: 3335)، لم یذکر بولہ علیہ السلام ، مسند احمد 5/382، 402، سنن الدارمی/الطہارة 9 (695) (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : الْقَوْلِ عِنْدَ دُخُولِ الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ کی جگہ میں داخل ہونے کے وقت کون سی دعا پڑھے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ کی جگہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ” اے اللہ ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں ( کے شر ) سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 19]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، صحیح مسلم/حیض 32 (375)، سنن ابی داود/الطہارة 3 (4)، سنن الترمذی/فیہ 4 (5)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 9 (298)، (تحفة الأشراف: 997)، مسند احمد 3/101، 282، سنن الدارمی/الطہارة 10 (696) (صحیح)
|
|
|
19: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا".
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا : اللہ کی قسم ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 20]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح وله شواهد كثيرة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، مسند احمد 5/414، 419، (تحفة الأشراف: 3458) (صحیح)
|
|
|
20: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ، عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاخانہ و پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو ، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرو ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 21]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ خطاب اہل مدینہ اور ان لوگوں کو ہے جو خانہ کعبہ سے اتر یا دکھن کی سمت میں رہتے ہیں، اس سے مقصود اس سمت کی جانب رہنمائی ہے جس میں قبلہ نہ آدمی کے آگے ہو نہ پیچھے، برصغیر ہند و پاک والوں کا قبلہ چونکہ پچھم میں ہے اس لیے یہاں اس حدیث کے مطابق اتر اور دکھن کی طرف منہ یا پیٹھ کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطھارة 17 (264)، سنن ابی داود/فیہ 4 (9)، سنن الترمذی/فیہ 6 (8)، سنن ابن ماجہ/فیہ 17 (318)، (تحفة الأشراف: 3478)، مسند احمد 5/416، 417، 421، سنن الدارمی/فیہ 6 (692) (صحیح)
|
|
|
21: بَابُ : الأَمْرِ بِاسْتِقْبَالِ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت پورب یا پچھم کی طرف منہ کرنے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے ، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 22]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْبُيُوتِ
باب: قضائے حاجت کے وقت گھروں میں قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ" مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 23]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہو گی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 12 (145)، 14 (148، 149)، الخمس 4 (3102)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (266)، سنن ابی داود/فیہ 5 (12)، سنن الترمذی/فیہ 7 (11)، سنن ابن ماجہ/فیہ 18 (322)، (تحفة الأشراف: 8552)، موطا امام مالک/القبلة 2 (3)، مسند احمد 2/12، 13، 41، سنن الدارمی/طہارة 8 (694) (صحیح)
|
|
|
23: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، بِالْيَمِينِ عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) چھونے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْخُذْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) نہ پکڑے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 24]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ داہنے ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، الأشربة 25 (5630) مطولاً، صحیح مسلم/الطہارة 18 (267)، سنن ابی داود/فیہ 18 (31)، سنن الترمذی/فیہ 11 (15)، سنن ابن ماجہ/فیہ 15 (310)، (تحفة الأشراف: 12105)، مسند احمد 4/384، 5/295، 296، 300، 309، 310، 311، سنن الدارمی/الطہارة 13 (700) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 25]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
24: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الْبَوْلِ فِي الصَّحْرَاءِ قَائِمًا
باب: صحرا (میدان) میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی رخصت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 26]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 27]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا بَهْزٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا". قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: " وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْصُورٌ الْمَسْحَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 28]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)
|
|
|
25: بَابُ : الْبَوْلِ فِي الْبَيْتِ جَالِسًا
باب: گھر میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ، مَا كَانَ يَبُولُ إِلَّا جَالِسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 29]
💡 وضاحت:
۱؎: حذیفہ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم دونوں کی روایتوں میں تعارض ہے لیکن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ سنداً وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور اگر دونوں روایتوں کو صحت میں برابر مان لیا جائے تو جواب یہ ہو گا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی حذیفہ رضی اللہ عنہا کے اثبات میں قادح نہیں کیونکہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی ان کی معلومات کی حد تک ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا عام دستور یہی تھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے، اور بیان جواز کے لیے آپ نے کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا ہے جیسا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 8 (12)، سنن ابن ماجہ/فیہ 14 (307)، (تحفة الأشراف: 16147)، مسند احمد 6/136، 192، 213 (صحیح) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 201، تراجع الالبانی 2)
|
|
|
26: بَابُ : الْبَوْلِ إِلَى السُّتْرَةِ يَسْتَتِرُ بِهَا
باب: کسی چیز کو سامنے رکھ کر اس کی آڑ میں پیشاب کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ خَلْفَهَا فَبَالَ إِلَيْهَا. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ، فَقَالَ: " أَوَ مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ صَاحِبُهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ".
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی طرح کوئی چیز تھی ، تو آپ نے اسے رکھا ، پھر اس کے پیچھے بیٹھے ، اور اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا ، اس پر لوگوں نے کہا : ان کو دیکھو ! یہ عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا : ” کیا تمہیں اس چیز کی خبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک شخص کو پیش آئی ، انہیں جب پیشاب میں سے کچھ لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے ، تو ان کے ایک شخص نے انہیں ( ایسا کرنے سے ) روکا ، چنانچہ اس کی وجہ سے وہ اپنی قبر میں عذاب دیا گیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 30]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (22) ابن ماجه (346) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 11 (22)، سنن ابن ماجہ/فیہ 26 (346)، (تحفة الأشراف: 9693)، مسند احمد 4/196 (صحیح)
|
|
|
27: بَابُ : التَّنَزُّهِ عَنِ الْبَوْلِ
باب: پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَإِنَّهُ كَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا". خَالَفَهُ مَنْصُورٌ، رَوَاهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ طَاوُسًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ دونوں قبر والے عذاب دئیے جا رہے ہیں ، اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں دیے جا رہے ہیں ۱؎ ، رہا یہ شخص تو اپنے پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا ، اور رہا یہ ( دوسرا ) شخص تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی ، اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی ، پھر فرمایا : ” امید ہے کہ جب تک یہ دونوں خشک نہ ہو جائیں ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 31]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 55 (216)، 56 (218)، الجنائز 81 (1361)، 88 (1378)، الأدب 46 (6052)، 49 (6055)، صحیح مسلم/الطہارة 34 (292)، سنن ابی داود/فیہ11 (20)، سنن الترمذی/فیہ 3 5 (70)، سنن ابن ماجہ/فیہ 26 (347)، (تحفة الأشراف: 5747)، مسند احمد 1/225، سنن الدارمی/الطہارة 61 (766)، و یأتي عند المؤلف في الجنائز 116 (رقم: 2070، 2071) (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : الْبَوْلِ فِي الإِنَاءِ
باب: برتن میں پیشاب کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ السَّرِيرِ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا ، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 32]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 13 (24)، (تحفة الأشراف: 15782) (حسن صحیح)
|
|
|
29: بَابُ : الْبَوْلِ فِي الطَّسْتِ
باب: طشت میں پیشاب کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ" لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ". وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى، قَالَ الشَّيْخُ: أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا ، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں ، مگر ( اس سے قبل ہی ) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا ۔ ( آپ فوت ہو گئے ) مجھے پتہ بھی نہ چلا ، تو آپ نے کس کو وصیت کی ؟ [سنن نسائي/حدیث: 33]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا 1 (2741)، المغازي 83 (4459)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1636)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1626)، (تحفة الأشراف: 15970)، مسند احمد 6/32، ویأتي عند المؤلف في الوصایا 2 (رقم: 3654) (صحیح)
|
|
|
30: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ
باب: سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ". قَالُوا لِقَتَادَةَ: وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے “ ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 34]
💡 وضاحت:
۱؎: سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سانپ، بچھو وغیرہ سوراخ سے نکل کر ایذا نہ پہنچائیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (29) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 16 (29)، (تحفة الأشراف: 5322)، مسند احمد 5/82 (ضعیف) (قتادہ کا سماع عبداللہ بن سرجس سے نہیں ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، تراجع الالبانی 131)
|
|
|
31: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ، فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 35]
💡 وضاحت:
۱؎: ”ٹھہرے ہوئے پانی“ سے وہ پانی مراد ہے جو دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڈھا، جھیل، تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہو گا، ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند اور بدبو پیدا ہو جاتی ہے، اگر اس میں مزید نجاست و غلاظت ڈال دی جائے تو یہ پانی مزید بدبودار ہو جائے گا، اور اس کی عفونت اور سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 28 (281)، سنن ابن ماجہ/فیہ 25 (343)، (تحفة الأشراف: 2911)، مسند احمد 3/350 (صحیح)
|
|
|
32: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ
باب: غسل خانے میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے ، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 36]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله فإن عامة الوسواس منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (27) ترمذي (21) ابن ماجه (304) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 15 (27)، سنن الترمذی/فیہ 17 (21)، سنن ابن ماجہ/فیہ 12 (304)، (تحفة الأشراف: 9648)، مسند احمد 5/56 (صحیح)
|
|
|
33: بَابُ : السَّلاَمِ عَلَى مَنْ يَبُولُ
باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 37]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سلام کا جواب نہیں دیا“ کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ «قال الألباني: (صحيح دون قوله: فإن عامة الوسواس منه» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 28 (370)، سنن ابی داود/الطہارة 8 (16)، سنن الترمذی/فیہ 67 (90)، الاستئذان 27 (2720)، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (353)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن صحیح)
|
|
|
34: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ بَعْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کر کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ" سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ".
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، اور آپ پیشاب کر رہے تھے ، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا ، پھر جب آپ نے وضو کر لیا ، تو ان کے سلام کا جواب دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 38]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (17) ابن ماجه (350) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 8 (17) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (350) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11580)، مسند احمد 4/345، 5/80، سنن الدارمی/الاستئذان 13 (2683) (صحیح)
|
|
|
35: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِطَابَةِ، بِالْعَظْمِ
باب: ہڈی سے استنجاء کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَّةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدُكُمْ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 39]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایتوں میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9635)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 33 (450) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة 14 (18) (صحیح)
|
|
|
36: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِطَابَةِ، بِالرَّوْثِ
باب: گوبر سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قال: أَخْبَرَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَلَاءِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ". وَكَانَ" يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں ( باپ کی طرح ہوں ) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے ، نہ پیٹھ ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ ، آپ ( استنجاء کے لیے ) تین پتھروں کا حکم فرماتے ، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے ( استنجاء کرنے سے ) آپ منع فرماتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 40]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو کسی کام کی نہیں ہوتی جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (313)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 17 (65) مختصراً، مسند احمد 2/247، 250، سنن الدارمی/الطہارة 14 (701) (صحیح)
|
|
|
37: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِكْتِفَاءِ، فِي الاِسْتِطَابَةِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ
باب: استنجاء میں تین پتھر سے کم کا استعمال منع ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ. قال: أَجَلْ" نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ( حقارت کے انداز میں ) ان سے کہا : تمہارے نبی تمہیں ( سب کچھ ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا ( بھی ) ؟ تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا : ہاں ! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے ، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 41]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 17 (262)، سنن ابی داود/فیہ 4 (7)، سنن الترمذی/فیہ 12 (16)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (316)، (تحفة الأشراف: 4505)، مسند احمد 5/ 437، 438، 439، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 49 (صحیح)
|
|
|
38: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِحَجَرَيْنِ
باب: دو پتھروں سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الرِّكْسُ طَعَامُ الْجِنِّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پاخانے ) کی جگہ میں آئے ، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا ، مجھے دو پتھر ملے ، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا ، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے ، اور گوبر پھینک دیا ۱؎ اور فرمایا : ” یہ «رکس» ( ناپاک ) ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں : «رکس» سے مراد جنوں کا کھانا ہے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 42]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دو ہی پتھر پر اکتفا کیا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے تیسرا خود اٹھا لیا ہو، نیز مسند احمد اور سنن دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے «ائتنی بحجر» فرما کر تیسرا پتھر لانے کے لیے بھی کہا، اس کی سند صحیح ہے۔ ۲؎: لغوی اعتبار سے اس کا ثبوت محل نظر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 21 (156)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 13 (17)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (314)، (تحفة الأشراف: 9170)، مسند احمد 1/388، 418، 427، 450 (صحیح)
|
|
|
39: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ
باب: ایک پتھر سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب استنجاء کرو تو طاق ( ڈھیلا ) استعمال کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 43]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف کا استدلال «فأوتر» کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی ”طاق“ سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ”ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے“ اور تین کی قید حدیث رقم: ۴۱ میں آ چکی ہے، اس لیے ”طاق“ سے ”تین“ والا طاق مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/ 313، 339، 340، کلہم بزیادة إذا توضأت فانثر، ویأتي عند المؤلف برقم: 89، بزیادة اذا توضات فاستنثر (صحیح)
|
|
|
40: بَابُ : الاِجْتِزَاءِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِالْحِجَارَةِ دُونَ غَيْرِهَا
باب: صرف پتھر اور ڈھیلے سے استنجاء کے کافی ہونے اور پانی کے ضروری نہ ہونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے ، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 44]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 21 (40)، (تحفة الأشراف: 16757)، مسند احمد 6/ 108، 133، سنن الدارمی/الطہارة 11 (697) (صحیح)
|
|
|
41: بَابُ : الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ مَعِي نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے ، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 45]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 15 (150)، 16 (150)، 17 (152)، الصلاة 93 (500)، صحیح مسلم/الطہارة 21 (271)، سنن ابی داود/فیہ 23 (43)، (تحفة الأشراف: 1094)، مسند احمد 3/112، 171، 203، 259، 284، سنن الدارمی/الطہارة 15 (702، 703) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں ، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 46]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 15 (19)، (تحفة الأشراف: 17970)، مسند احمد 6/113، 114، 120، 130، 171، 236 (صحیح)
|
|
|
42: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ، بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے ، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر ( عضو تناسل ) نہ چھوئے ، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 47]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض علماء نے داہنے ہاتھ سے عضو تناسل کے چھونے کی ممانعت کو بحالت پیشاب خاص کیا ہے، کیونکہ ایک روایت میں «إذا بال أحدکم فلا یمس ذکرہ» کے الفاظ وارد ہیں، اور ایک دوسری روایت میں «لا يمسكن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول» آیا ہے، اس لیے ان لوگوں نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، اور نووی نے حالت استنجاء اور غیر استنجاء میں کوئی تفریق نہیں کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حالت استنجاء میں اس کی ممانعت ہے جب کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو دوسری حالتوں میں جب کہ اس کی ضرورت نہیں پڑتی بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے ، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 48]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفَيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمُ الْخِرَاءَةَ، قال: أَجَلْ" نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے ( حقارت کے انداز میں ) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ ( تک ) کی تعلیم دیتے ہیں ، تو انہوں نے ( فخریہ ) کہا : ہاں ، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( بحالت قضائے حاجت ) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا ، نیز فرمایا : ” تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 49]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن حزم کہتے ہیں کہ «بدون ثلاثۃ احجار» میں «دون» ، «اقل» کے معنی میں یا «غیر» کے معنی میں ہے، لہٰذا نہ تین پتھر سے کم لینا درست ہے نہ زیادہ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے «دون» کو «غیر» کے معنی میں لینا غلط ہے، یہاں دونوں سے مراد «اقل» ہے جیسے «ليس فيما دون خمس من الأبل صدقة» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 41 (صحیح)
|
|
|
43: بَابُ : دَلْكِ الْيَدِ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ، فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، جب آپ نے ( اس سے پہلے ) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 50]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح صاف ہو جائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14887)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 24 (45)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (358)، 41 (473)، مسند احمد 2/311، 454، سنن الدارمی/الطہارة 15 (703) (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْخَلَاءَ فَقَضَى الْحَاجَةَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا جَرِيرُ، هَاتِ طَهُورًا، فَأَتَيْتُهُ بِالْمَاءِ فَاسْتَنْجَى بِالْمَاءِ، وَقَالَ: بِيَدِهِ فَدَلَكَ بِهَا الْأَرْضَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے ، اور آپ نے حاجت پوری کی ، پھر فرمایا : ” جریر ! پانی لاؤ “ ، میں نے پانی حاضر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجاء کیا ، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 51]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (359)، سنن الدارمی/الطہارة 16 (706)، (تحفة الأشراف: 3207) (حسن)
|
|
|
44: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي الْمَاءِ
باب: گندگی پڑنے سے نجس نہ ہونے والے پانی کے مقدار کی تحدید۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا “ یعنی اسے دفع کر دے گا ؟ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 52]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مطلب نہیں کہ وہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہو گا کیونکہ یہ معنی لینے کی صورت میں «قلتین» (دو قلہ) کی تحدید بے معنی ہو جائے گی۔ «قُلّہ» سے مراد بڑا مٹکا ہوتا ہے کہ جس میں پانچ سو رطل پانی آتا ہے، یعنی اڑھائی مشک۔ ۲؎: حاکم کی روایت میں «لم يحمل الخبث» کی جگہ «لم ينجسه شيء» ہے، جس سے «لم يحمل الخبث» کے معنی کی وضاحت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 33 (63)، (تحفة الأشراف: 7272)، سنن الترمذی/فیہ 50 (67)، سنن ابن ماجہ/فیہ 75 (517)، سنن الدارمی/الطہارة 55 (759)، مسند احمد 2/12، 23، 38، 107، ویأتي عند المؤلف في المیاہ 2 (برقم: 329) (صحیح)
|
|
|
45: بَابُ : تَرْكِ التَّوْقِيتِ فِي الْمَاءِ
باب: پانی کی عدم تحدید کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يَعْنِي لَا تَقْطَعُوا عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں پیشاب کرنے لگا ، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، کرنے دو روکو نہیں “ ۱؎ ، جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا ، اور اس پر انڈیل دیا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں : یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کر لینے دو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 53]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں، ایک تو یہ کہ اگر اسے بھگاتے تو وہ پیشاب کرتا ہوا جاتا جس سے ساری مسجد نجس ہو جاتی، دوسری یہ کہ اگر وہ پیشاب اچانک روک لیتا تو اندیشہ تھا کہ اسے کوئی عارضہ لاحق ہو جاتا، تیسری یہ کہ وہ گھبرا جاتا اور مسلمانوں کو بدخلق سمجھ کر اسلام ہی سے پھر جاتا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 57 (219)، الأدب 35 (6025)، صحیح مسلم/الطہارة 30 (284)، سنن ابن ماجہ/فیہ 78 (528)، (تحفة الأشراف: 290)، وقد أحرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 62 (767)، مسند احمد 3/191، 226، ویأتي عند المؤلف برقم: (330) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: بَالَ أَعْرَابِيُّ فِي الْمَسْجِدِ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 54]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 59 (221)، صحیح مسلم/الطہارة 30 (284)، (تحفة الأشراف: 1657) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَالَ فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتْرُكُوهُ"، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ" أَمَرَ بِدَلْوٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا ، تو لوگ اس پر چیخے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو “ ( کرنے دو ) تو لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر بہا دیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 55]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا ، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا ، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو ، سختی کرنے والے بنا کر نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 56]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 58 (220)، الأدب 80 (6128)، (تحفة الأشراف: 14111)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 138 (380) مفصلاً، سنن الترمذی/فیہ 112 (147)، سنن ابن ماجہ/فیہ 78 (529)، مسند احمد 2/282، ویأتي عند المؤلف برقم: (331) (صحیح)
|
|
|
46: بَابُ : الْمَاءِ الدَّائِمِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ". قَالَ عَوْفٌ: وَقَالَ خِلَاسٌ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اسی سے وضو کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 57]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
حدیث عوف، عن محمد بن سیرین، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14492)، وحدیث عوف، عن خلاس بن عمرو، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12304)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 51 (68)، مسند احمد 2/259، 265، 492، 529، ویأتي عند المؤلف برقم: (397) من غیر ہذا الطریق (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ يَعْقُوبُ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا بِدِينَارٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اسی سے غسل کرے ۔“ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) نے فرمایا: (میرے استاذ) یعقوب بن ابراہیم یہ حدیث دینار لیے بغیر بیان نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/حدیث: 58]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14579)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 68 (239)، صحیح مسلم/الطہارة 28 (292)، مسند احمد 2/316، 346، 362، 364، سنن الدارمی/الطہارة 54 (757)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 222، 397، 398، 399، 400 (صحیح)
|
|
|
47: بَابُ : مَاءِ الْبَحْرِ
باب: سمندر کے پانی کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں ، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا پانی پاک کرنے والا ہے ، اور اس کا مردار حلال ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 59]
💡 وضاحت:
۱؎: مردار سے مراد وہ سمندری جانور ہیں جو سمندر میں مریں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے، دیگر سمندری جانور نہیں، لیکن اس تخصیص پر کوئی صریح دلیل نہیں ہے، اور آیت کریمہ: «أحل لكم صيدُ البحرِ وطعامُه» بھی مطلق ہے۔ سائل نے صرف سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا تھا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھانے کا بھی حال بیان کر دیا کیونکہ جیسے سمندری سفر میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ویسے کبھی کھانے کی بھی کمی ہو جاتی ہے، اس کا مردار حلال ہے، یعنی سمندر میں جتنے جانور رہتے ہیں جن کی زندگی بغیر پانی کے نہیں ہو سکتی وہ سب حلال ہیں، گو ان کی شکل مچھلی کی نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 41 (83)، سنن الترمذی/فیہ 52 (69)، سنن ابن ماجہ/فیہ 38 (386)، (تحفة الأشراف: 14618)، موطا امام مالک/فیہ 3 (12)، مسند احمد 2/237، 361، 378، 392، 393، سنن الدارمی/الطہارة 53 (755)، ویأتي عند المؤلف برقم: (333) (صحیح)
|
|
|
48: بَابُ : الْوُضُوءِ بِالثَّلْجِ
باب: برف سے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے ، تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کہتا ہوں «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» ” اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے ، اے اللہ ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ، اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے برف ، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 60]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ برف سے وضو درست ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے برف سے گناہ دھونے کی دعا مانگی ہے، اور ظاہر ہے کہ گناہ وضو سے دھوئے جاتے ہیں لہٰذا برف سے وضو کرنا صحیح ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 89 (744)، صحیح مسلم/المساجد 27 (598)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (781)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 1 (805)، (تحفة الأشراف: 14896)، مسند احمد 2/231، 494، سنن الدارمی/الصلاة 37 (1280)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: (334، 895، 896) (صحیح)
|
|
|
49: بَابُ : الْوُضُوءِ بِمَاءِ الثَّلْجِ
باب: برف کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ” اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے ، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 61]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16779)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 39 (6368)، 44 (6375)، 46 (6377)، صحیح مسلم/الذکر 14 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3495)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد 6/57، 207، ویأتي عند المؤلف برقم: (334) (صحیح)
|
|
|
50: بَابُ : الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَرَدِ
باب: اولے کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قال: شَهِدْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنازے پر نماز پڑھتے ہوئے سنا ، تو میں نے آپ کی دعا میں سے سنا آپ فرما رہے تھے : «اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله وأوسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس » ” اے اللہ ! اسے بخش دے ، اس پر رحم کر ، اسے عافیت سے رکھ ، اس سے درگزر فرما ، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما ، اس کی جگہ ( قبر ) کشادہ کر دے ، اس ( کے گناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اور اس کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 62]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 26 (963)، سنن الترمذی/الجنائز 38 (1025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1500)، (تحفة الأشراف: 10901)، مسند احمد 6/23، 28، ویأتي عند المؤلف برقم: (1985، وعمل الیوم واللیلة (1087) (صحیح)
|
|
|
51: بَابُ : سُؤْرِ الْكَلْبِ
باب: کتے کے جھوٹے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے پی لے ، تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 63]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح روایتوں سے سات بار ہی دھونا ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت صحیح نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کی نجاست بھی تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گی لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے، جو درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 33 (172)، صحیح مسلم/الطہارة 27 (279)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 68 (91)، سنن ابن ماجہ/فیہ 31 (364)، موطا امام مالک/فیہ 6 (35)، (تحفة الأشراف: 13799)، مسند احمد 2/245، 265، 271، 314، 360، 398، 424، 427، 460، 480، 482، 508، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 33، 339، 340 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 64]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، مسند احمد 2/271، (تحفة الأشراف: 12230) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أَسَامَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 65]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، مسند احمد 2/271، (تحفة الأشراف: 15352) (صحیح)
|
|
|
52: بَابُ : الأَمْرِ بِإِرَاقَةِ مَا فِي الإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ
باب: کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس میں موجود چیز کے بہانے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ عَلَى قَوْلِهِ فَلْيُرِقْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے ، تو وہ ( جو کچھ اس برتن میں ہو ) اسے بہا دے ، پھر سات مرتبہ اسے دھوئے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کسی شخص نے علی بن مسہر کی ان کے قول «فلیرقہ» پر متابعت کی ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 66]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 27 (279)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 31 (363)، مسند احمد 2/424، 480، (تحفة الأشراف: 12441، 14607)، ویأتي عند المؤلف برقم: (336) (صحیح)
|
|
|
53: بَابُ : تَعْفِيرِ الإِنَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ بِالتُّرَابِ .
باب: جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اسے مٹی سے مانجھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ۱؎ اور شکاری کتوں کی اور بکریوں کے ریوڑ کی نگہبانی کرنے والے کتوں کی اجازت دی ، اور فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے ، تو اسے سات مرتبہ دھوؤ ، اور آٹھویں دفعہ اسے مٹی سے مانجھو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 67]
💡 وضاحت:
۱؎: شروع اسلام میں کتوں کے مار ڈالنے کا حکم تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ ۲؎: اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں بار دھونا بھی واجب ہے، بعضوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اس پر ترجیح دی ہے اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب تعارض ہو، جب کہ یہاں تعارض نہیں ہے، ابن مغفل رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر بھی عمل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 27 (280)، سنن ابی داود/الطہارة 37 (74)، سنن ابن ماجہ/فیہ 31 (365)، الصید 1 (3200، 3201)، مسند احمد 4/86، 5/56، سنن الدارمی/الطہارة 59 (764)، الصید 2 (2049)، (تحفة الأشراف: 9665)، ویأتي عند المؤلف في المیاہ 7 برقم: (337، 338) (صحیح)
|
|
|
54: بَابُ : سُؤْرِ الْهِرَّةِ
باب: بلی کے جھوٹے کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، پھر ( کبشہ نے ) ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی لا کر ایک برتن میں ڈالا ، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی ، تو انہوں نے برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس بلی نے پانی پی لیا ، کبشہ کہتی ہیں : تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں ، تو کہنے لگے : بھتیجی ! کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ناپاک نہیں ہے ، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 68]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی مثال ان غلاموں اور خادموں جیسی ہے جو گھروں میں خدمت کے لیے بکثرت آتے جاتے ہیں، چونکہ یہ رات دن گھروں میں پھرتی رہتی ہے اس لیے یہ پاک کر دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارہ 38 (75)، سنن الترمذی/فیہ 69 (92)، سنن ابن ماجہ/فیہ 32 (367)، موطا امام مالک/فیہ3 (13)، (تحفة الأشراف: 12141)، مسند احمد 5/296، 303، 309، سنن الدارمی/الطہارة 58 (763)، ویأتي عند المؤلف برقم: (341) (صحیح)
|
|
|
55: بَابُ : سُؤْرِ الْحِمَارِ
باب: گدھے کے جوٹھے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَتَانَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں ، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 69]
💡 وضاحت:
۱؎: جب گدھے کا گوشت ناپاک اور نجس ہے، تو اس کا جوٹھا بھی ناپاک و نجس ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 130 (2991)، المغازي 38 (4198)، الذبائح 28 (5528)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 13 (3196)، (تحفة الأشراف: 1457)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 5 (1940)، مسند احمد 3/111، 121، 164، سنن الدارمی/الاضاحي 21 (2034)، ویأتي عند المؤلف برقم: (4335) (صحیح)
|
|
|
56: بَابُ : سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے جوٹھے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ہڈی نوچتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی ، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی ، حالانکہ میں حائضہ ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 70]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 3 (300)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (259)، سنن ابن ماجہ/فیہ 125 (643)، (تحفة الأشراف: 16145)، مسند احمد 6/62، 64، 127، 192، 210، 214، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 280، 281، 342، 377، 380)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1101) (صحیح)
|
|
|
57: بَابُ : وُضُوءِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا
باب: مردوں اور عورتوں کے ایک ساتھ وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ ( یعنی ایک ہی برتن سے ) وضو کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 71]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 43 (193)، سنن ابی داود/الطہارة 39 (79)، سنن ابن ماجہ/فیہ 36 (381)، (تحفة الأشراف: 8350)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/فیہ 3 (15)، مسند احمد 2/4، 103، 113، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 343) (صحیح)
|
|
|
58: بَابُ : فَضْلِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی کا حکم۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا" كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
عروہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 72]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 10 (319)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (376)، (تحفة الأشراف: 16586)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 2 (250)، 15 (273)، سنن ابی داود/الطھارة 39 (77)، مسند احمد 6/37، 173، 189، 191، 199، 210، 230، 231، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 229، 232-236، 345، 410، 411، 413 (صحیح)
|
|
|
59: بَابُ : الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ
باب: پانی کی مقدار جو آدمی کے وضو کے لیے کافی ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک پانی سے وضو اور پانچ مکوک سے غسل فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 73]
💡 وضاحت:
مکوک سے مراد یہاں مد ہے، اور ایک قول کے مطابق صاع ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ ایک روایت میں مکوک کی تفسیر مد سے کی گئی ہے، اور مد اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور اہل عراق کے نزدیک دو رطل کا ہوتا ہے، اس حساب سے صاع جو چار مد کا ہوتا ہے اہل حجاز کے نزدیک پانچ رطل کا ہو گا، اور اہل عراق کے نزدیک آٹھ رطل کا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 47 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (325)، سنن ابی داود/الطہارة 44 (95)، سنن الترمذی/الصلاة 312 (609)، (تحفة الأشراف: 962)، مسند احمد 3/112، 116، 179، 259، 282، 290، سنن الدارمی/الطہارة 23 (716)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 230، 346 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ بِنْتُ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ قَدْرَ ثُلُثَيِ الْمُدِّ". قَالَ شُعْبَةُ: فَأَحْفَظُ أَنَّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَجَعَلَ يَدْلُكُهُمَا وَيَمْسَحُ أُذُنَيْهِ بَاطِنَهُمَا". وَلَا أَحْفَظُ أَنَّهُ مَسَحَ ظَاهِرَهُمَا.
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک برتن میں دو تہائی مد کے بقدر پانی لایا گیا ، ( شعبہ کہتے ہیں : مجھے اتنا اور یاد ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا ، اور انہیں ملنے اور اپنے دونوں کانوں کے داخلی حصے کا مسح کرنے لگے ، اور مجھے یہ نہیں یاد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپری ( ظاہری ) حصے کا مسح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 74]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 44 (94)، (تحفة الأشراف: 18336) (صحیح)
|
|
|
60: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو میں نیت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی ، تو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی ، اور جس نے دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے واسطے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 75]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی بنیاد پر علماء کا اتفاق ہے کہ اعمال میں نیت ضروری ہے، اور نیت کے مطابق ہی اجر ملے گا، اور نیت کا محل دل ہے یعنی دل میں نیت کرنی ضروری ہے، زبان سے اس کا اظہار ضروری نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے سوائے ان صورتوں کے جن میں زبان سے نیت کرنا دلائل و نصوص سے ثابت ہے، جیسے حج و عمرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (1)، الایمان 41 (54)، العتق 6 (2529)، مناقب الأنصار45 (3898)، النکاح 5 (5070)، الأیمان والنذر 23 (6689)، الحیل 1 (6953)، صحیح مسلم/الإمارة 45 (1907)، سنن ابی داود/الطلاق 11 (2201)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 16 (1647)، سنن ابن ماجہ/الزھد 26 (4227)، (تحفة الأشراف: 10612)، مسند احمد 1/25، 43، ویأتيعند المؤلف بأرقام: 3467، 3825 (صحیح)
|
|
|
61: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الإِنَاءِ .
باب: برتن سے وضو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہو گیا تھا ، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا ، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا ، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے ، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 76]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا، دوسری روایت میں ہے کہ یہ کل تین سو آدمی تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار پانچ سو آدمی تھے «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 32 (169)، المناقب 25 (3573)، صحیح مسلم/الفضائل3 (2279)، سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، موطا امام مالک/الطہارة 6 (32)، (تحفة الأشراف: 210)، مسند احمد 3/132، 147، 170، 215، 289، نحوہ، ویأتي عند المؤلف برقم: 78 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ.
عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک طشت لایا گیا ، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا ، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” پاک کرنے والے پانی اور اللہ کی برکت پر آؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 77]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9436)، مسند احمد 1/396، 401، سنن الدارمی/المقدمة 5 (30)، وحدیث جابر أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3576)، المغازي 35 (4152)، الأشربة 31 (5639) (صحیح)
|
|
|
62: بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قال: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ". قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ “ ( تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا : ” بسم اللہ کر کے وضو کرو “ میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا ، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ستر کے قریب ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 78]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب اور اس سے پہلے والے باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ بار پیش آیا تھا، «واللہ اعلم بالصواب» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، حدیث ثابت عن أنس، (تحفة الأشراف: 484)، وحدیث قتادة عن أنس، (تحفة الأشراف: 1347)، (نیز ملاحظہ ہو: 76) (صحیح الاسناد)
|
|
|
63: بَابُ : صَبِّ الْخَادِمِ الْمَاءَ عَلَى الرَّجُلِ لِلْوُضُوءِ
باب: وضو کے لیے خادم کے پانی ڈالنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَيُونُسَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ: " سَكَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَمْ يَذْكُرْ مَالِكٌ، عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک میں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، آپ پر پانی ڈالا ، پھر آپ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 79]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 35 (182)، 48 (203)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (274)، الصلاة 22 (274)، سنن ابی داود/الطہارة 59 (149، 151)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (545)، (تحفة الأشراف: 11514)، موطا امام مالک/فیہ 8 (41)، مسند احمد 4/249، 251، 254، 255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 82، 124، 125 (صحیح)
|
|
|
64: بَابُ : الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً
باب: اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ پھر انہوں نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 80]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 22 (157)، سنن ابی داود/الطہارة 53 (138)، سنن الترمذی/فیہ 32 (42)، سنن ابن ماجہ/فیہ 45 (411)، (تحفة الأشراف: 5976)، مسند احمد 1/233، 332، 236، سنن الدارمی/الطہارة 29 (724) (صحیح)
|
|
|
65: بَابُ : الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا
باب: اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". يُسْنَدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا ، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 81]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 46 (414)، (تحفة الأشراف: 7458)، مسند احمد 2/8، 132 (صحیح)
|
|