سنن النسائي حدیث نمبر: 37
Sunan an-Nasa'i 37
کتاب #2: ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
33: بَابُ : السَّلاَمِ عَلَى مَنْ يَبُولُ
باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 37]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سلام کا جواب نہیں دیا“ کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ «قال الألباني: (صحيح دون قوله: فإن عامة الوسواس منه» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 28 (370)، سنن ابی داود/الطہارة 8 (16)، سنن الترمذی/فیہ 67 (90)، الاستئذان 27 (2720)، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (353)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن صحیح)