سنن النسائي حدیث نمبر: 14
Sunan an-Nasa'i 14
کتاب #2: ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
14: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي ذَلِكَ
باب: ان چیزوں کو چھوڑے رکھنے کی مدت کی تحدید۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا". وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے ، ناخن تراشنے ، زیر ناف کے بال صاف کرنے ، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎ ، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 14]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 16 (258)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4200)، سنن الترمذی/الأدب 15 (2758)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (295)، (تحفة الأشراف: 1070)، مسند احمد 3/122، 203، 256 (صحیح)