سنن النسائي حدیث نمبر: 17
Sunan an-Nasa'i 17
کتاب #2: ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
16: بَابُ : الإِبْعَادِ عِنْدَ إِرَادَةِ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے لیے دور جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ. قَالَ: فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ". قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ: هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے ، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( تو واپس آ کر ) آپ نے فرمایا : ” میرے لیے وضو کا پانی لاؤ “ ، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا ، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد : ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 17]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/فیہ 16 (20)، سنن ابن ماجہ/فیہ 22 (331)، (تحفة الأشراف: 11540)، مسند احمد 3/443، 4/224، 237، 248، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)