سنن النسائي حدیث نمبر: 78
Sunan an-Nasa'i 78
کتاب #2: ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
62: بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قال: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ". قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ “ ( تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا : ” بسم اللہ کر کے وضو کرو “ میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا ، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ستر کے قریب ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 78]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب اور اس سے پہلے والے باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ بار پیش آیا تھا، «واللہ اعلم بالصواب» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، حدیث ثابت عن أنس، (تحفة الأشراف: 484)، وحدیث قتادة عن أنس، (تحفة الأشراف: 1347)، (نیز ملاحظہ ہو: 76) (صحیح الاسناد)