سنن النسائي حدیث نمبر: 159
Sunan an-Nasa'i 159
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
114: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ
باب: پاخانہ سے وضو ٹوٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم ( موزوں کو ) تین دن تک نہ اتاریں ، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ، ۱؎ لیکن پاخانہ ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 159]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)