سنن النسائي حدیث نمبر: 124
Sunan an-Nasa'i 124
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
96: بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ" فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے ، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے ، اور آپ پر پانی ڈالا ، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے ، پھر وضو کیا ، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 124]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلم کی روایت میں «حتیٰ فرغ من حاجتہ» کے بجائے «حین فرغ من حاجتہ» ہے یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی روسے «حتی» کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح «حین» ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد «فتوضأ» کا جملہ بے موقع ہو گا۔ ۲؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 79)