📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: وضو کا طریقہ (صفة الوضوء) 🏷️ باب: باب: اونگھ کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 162 Sunan an-Nasa'i 162
کتاب #3: ابواب: وضو کا طریقہ
117: بَابُ : النُّعَاسِ
باب: اونگھ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ لَعَلَّهُ يَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لَا يَدْرِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کر لے ، ایسا نہ ہو کہ وہ ( اونگھ میں ) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 162]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مصنف نے یہ اخذ کیا ہے کہ اونگھ ناقض وضو نہیں ہے کیونکہ اگر ناقض وضو ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس ڈر سے منع نہ فرماتے کہ وہ اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے کہ اونگھنے کی حالت میں نماز درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، سنن ابی داود/الصلاة 308 (1310)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1370)، موطا امام مالک/صلاة الیل 1 (3)، مسند احمد 6/56، 205، سنن الدارمی/الصلاة 107 (1423) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #162
160 161 162 163 164
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ